உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاراشٹر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مولانا محمود مدنی کی اپیل، جمعیۃ ریلیف کمیٹی کی بھی تشکیل

    مہاراشٹر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مولانا محمود مدنی کی اپیل

    مہاراشٹر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مولانا محمود مدنی کی اپیل

    جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے ملک کے اہل خیر افراد سے مہاراشٹر کے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے آگے آنے کی اپیل کی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایک وفد بھی متاثرہ علاقہ میں بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کی مدد کیلئے فوری طورپر ایکشن پلان تیار کیا جاسکے۔

    • Share this:
    نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے ملک کے اہل خیر افراد سے مہاراشٹر کے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے آگے آنے کی اپیل کی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایک وفد بھی متاثرہ علاقہ میں بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کی مدد کیلئے فوری طورپر ایکشن پلان تیار کیا جاسکے۔ غورطلب ہے کہ مہاراشٹر کے کئی اضلاع بالخصوص رتنا گیری، رائے گڑھ و دیگر علاقوں میں مسلسل بارش کی وجہ سے قیامت خیز صورت حال کا سامنا ہے۔ لاکھوں کی آبادی اپنے آشیانے سمیت مکمل طریقے سے پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ان گنت جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں اورہزاروں افراد کو اگر فوراً محفوظ مقام تک نہیں پہنچایا گیا اور کھانے پینے کی اشیائ فراہم نہیں کی گئیں تو ان کی زندگی کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔
    مولانا محمود اسعد مدنی نے تمام اہل خیر حضرات اور ہمدردان وطن سے اپیل کی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں مصیبت زدوں کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو آزماتا ہے، ایسے موقع پر اگر کوئی پریشان حال لوگوں کی مدد کے لئے آگے آتا ہے تو اللہ تعالی کو وہاں پاتا ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے۔
    مولانا محمود مدنی نے کہا حسب روایت بچاو  اور راحت رسانی کا کام شروع کردیا ہے، نیز جمعیۃ علماء ہند کا ایک مرکزی وفد مولانا حکیم الدین قاسمی جنرل سکریٹری کی سرکردگی میں متاثرہ علاقہ کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ راحت رسانی کے کاموں کو منظم کرنے کے لئے جمعیۃ ریلیف کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

    جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ ریلیف و راحت کے کاموں کو مرحلہ وار انجام دیتی ہے، پہلے مرحلے میں متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو بچانا، ان کو شیلٹر ہوم، کھانے پینے اور برتنے کی اشیاء کی فراہمی سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ آگے کے مرحلے میں باز آبادکاری کا عمل بھی انجام دیا جائے گا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: