ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بنگال تشدد پر قومی حقوق انسانی کمیشن کی رپورٹ منظر عام ہونے پر ممتا بنرجی برہم، عدالت کی توہین قرار دیا

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بعد ریاست بھر میں ہونے والے تشدد کے واقعات کا جائزہ لینے کے بعد قومی انسانی حقوق کمیشن نے قتل، عصمت دری اور دیگر سنگین جرائم کی سی بی آئی جانچ کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان مقدمات کی ریاست کے باہر مقدمات چلانی چاہیے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 15, 2021 09:44 PM IST
  • Share this:
بنگال تشدد پر قومی حقوق انسانی کمیشن کی رپورٹ منظر عام ہونے پر ممتا بنرجی برہم، عدالت کی توہین قرار دیا
بنگال تشدد پر قومی حقوق انسانی کمیشن کی رپورٹ منظر عام ہونے پر ممتا بنرجی برہم، عدالت کی توہین قرار دیا





کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بعد ریاست بھر میں ہونے والے تشدد کے واقعات کا جائزہ لینے کے بعد قومی انسانی حقوق کمیشن نے قتل، عصمت دری اور دیگر سنگین جرائم کی سی بی آئی جانچ کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان مقدمات کی ریاست کے باہر مقدمات چلانی چاہیے۔ تاہم اس رپورٹ کو منظر عام کئے جانے پر سخت ناگواری کا اظہار کرتے ہوئےکہا ہے کہ قومی انسانی حقوق کمیشن نے بی جے پی کو خوش کرنے کےلئے ریاست کی رپورٹ کو مدنظر رکھے بغیر رپورٹ مرتب کی ہے اور اس رپورٹ کو میڈیا میں عام کرکے عدالت کی توہین کی ہے۔


ممتا بنرجی نے قومی انسانی حقوق کمیشن پر بی جے پی کو خوش کرنے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ قومی حقوق انسانی کمیشن نے ریاستی حکومت کی رائے کا خیال نہیں رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی سیاسی فائدے کےلئےغیرجانبدار ایجنسویں کا استعمال کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی حقوق انسانی کمیشن کو عدالت کا احترام کرنا چاہیے تھا اور رپورٹ پر عدالت کے فیصلے سے قبل میڈیا میں لیک نہیں کرنا چاہئے۔



ممتا بنرجی نے قومی انسانی حقوق کمیشن پر بی جے پی کو خوش کرنے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ قومی حقوق انسانی کمیشن نے ریاستی حکومت کی رائے کا خیال نہیں رکھا ہے۔
ممتا بنرجی نے قومی انسانی حقوق کمیشن پر بی جے پی کو خوش کرنے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ قومی حقوق انسانی کمیشن نے ریاستی حکومت کی رائے کا خیال نہیں رکھا ہے۔



خیال رہے حقوق انسانی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بنگال حکومت کی بے حسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کی صورتحال "قانون کی حکمرانی کے بجائے حکمرانوں کے قانون کا مظہر" ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے بنگال میں تشدد کے واقعات کا جائزہ لینے کےلئے قومی حقوق انسانی کمیشن کو جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت دی تھی۔قومی انسانی حقوق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تشدد کے واقعات کی وجہ سے ہزاروں افراد کی زندگی اور معاش کا نظام درہم برہم ہوا اور ان کا معاشی گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد اور دھمکیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ پولیس اور حکمران جماعت کے بدمعاشوں کے تئیں متاثرین میں واضح خوف لاحق ہے۔ بہت سے بے گھر افراد ابھی تک اپنے گھروں کو واپس نہیں آسکے ہیں اور اپنی معمول کی زندگی کا دوبارہ آغاز نہیں کرسکے ہیں۔ قومی حقوق انسانی کمیشن نے کہا کہ متعدد جنسی جرائم کے متاثرین بولنے سے خوفزدہ ہیں۔ متاثرین میں ریاستی انتظامیہ پر اعتماد کا کھونا بہت واضح ہے۔ منگل کو عدالت میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ قتل ، عصمت دری ، جیسے سنگین جرائم کو تحقیقات کے لئے سی بی آئی کے حوالے کیا جانا چاہئے اور ان معاملات کو ریاست سے باہر مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔





Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 15, 2021 09:36 PM IST