ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

مجلس اتحاد المسلمین سے متعلق وزیر اعلی ممتا بنرجی کا بڑا بیان، بی جے پی اور اسدالدین اویسی سے متعلق کہی یہ بات

مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ مسلم ووٹوں کی تقسیم کے لئے بی جے پی کروڑوں روپئے خرچ کرکے حیدرآباد کی پارٹی کو مغربی بنگال میں لارہی ہے۔

  • Share this:
مجلس اتحاد المسلمین سے متعلق  وزیر اعلی ممتا بنرجی کا بڑا بیان، بی جے پی اور اسدالدین اویسی سے متعلق کہی یہ بات
مجلس اتحاد المسلمین سے متعلق وزیر اعلی ممتا بنرجی کا بڑا بیان، بی جے پی اور اسدالدین اویسی سے متعلق کہی یہ بات

کولکاتا: بہار الیکشن کے نتائج کے بعد جہاں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے کامیابی حاصل کی۔ وہیں مختلف سماجی تنظیموں نے ایم آئی ایم پر ووٹوں کی تقسیم کا الزام لگاتے ہوئے اسے بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیا۔ آج وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی کچھ ایسے ہی الزامات لگائے ہیں۔ بنگال میں اسمبلی الیکشن کی تیاریاں شروع ہو چکی ہے۔ آئندہ سال اپریل اور مئی میں ہونے والے الیکشن سے پہلے ترنمول کانگریس کے لیڈران میں بڑھتی ناراضگی لیڈران کے بی جے پی میں شامل ہونے سے ترنمول قیادت پریشان ہے۔


وہیں اب ریاست کے اہم ووٹ بینک کے بکھراؤ کا بھی اندیشہ بڑھ رہا ہے، اس کا اندازہ وزیر اعلیٰ کے بیان سے لگایا جاسکتا ہے۔ وزیراعلی ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ مسلم ووٹوں کی تقسیم کے لئے بی جے پی کروڑوں روپئے خرچ کرکے حیدرآباد کی پارٹی کو بنگال میں لارہی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے بہار اسمبلی انتخابات میں پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد بنگال اسمبلی الیکشن میں بھی حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ شمالی بنگال میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ بہار کے حالیہ انتخابات میں بی جے پی نے مسلم ووٹوں کی تقسیم کے لئے اسدالدین اویسی کو لے کر آئی تھی اور اب بنگال میں بھی اپنی بی ٹیم کو اتارنے کے لئے کروڑوں روپئے خرچ کررہی ہے۔


مغربی بنگال میں سیاسی جماعتوں کو خدشہ ہے کہ بنگال کی سیاست میں اسدالین اویسی کی آمد سے حالات بی جے پی کے لئے سازگار ہوجائیں گے اور بی جے پی اویسی کے نام پر ہندو ووٹوں کو پولرائز کرسکتی ہے۔ مغربی بنگال میں  110 سیٹوں پر مسلم ووٹرس فیصلہ کن ہیں۔ بنگال میں آئی سیاسی تبدیلی میں 2011 سے 2019 تک مسلمانوں نے یکطرفہ ترنمول کانگریس کو ووٹ دیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے مسلم ووٹ کی بدولت سبقت حاصل کی ہے، مگر اب ترنمول کانگریس کو خدشہ ہے کہ ایم آئی ایم کے امیدوار اتارے جانے سے بنگال کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوسکتا ہے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 16, 2020 10:08 PM IST