ممتا بنرجی کی اڑی نیند، بنگال میں اس طرح اویسی بگاڑ سکتے ہیں ترنمول کانگریس کا کھیل

اقلیتوں کی زبردست حمایت کی وجہ سے ہی ممتا نے ریاست میں 2011 میں 34 سال سے چلی آ رہی بایاں محاذ کی حکومت کو ختم کیا تھا۔

Nov 27, 2019 02:06 PM IST | Updated on: Nov 27, 2019 02:14 PM IST
ممتا بنرجی کی اڑی نیند، بنگال میں اس طرح اویسی بگاڑ سکتے ہیں ترنمول کانگریس کا کھیل

ممتا بنرجی کی اڑی نیند، بنگال میں اس طرح اویسی بگاڑ سکتے ہیں ترنمول کانگریس کا کھیل

کولکاتہ۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی اب مغربی بنگال میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے میں لگے ہیں۔ اگلے مہینے یعنی دسمبر میں وہ کولکاتہ کے مشہور بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑی ریلی کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اسے لے کر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خاصی فکرمند بتائی جا رہی ہیں۔ ریلی کو لے کر پریشان ہونا لازمی بھی ہے۔ دراصل، بنگال میں مسلمانوں کا ووٹ شئیر 31 فیصدی ہے۔ اقلیتوں کی زبردست حمایت کی وجہ سے ہی ممتا نے 2011 میں 34 سال سے چلی آ رہی بایاں محاذ کی حکومت کو ختم کیا تھا۔

بنگال میں مجلس کے ترجمان اسیم وقار نے کہا ’’ ہم لوگ اس سال جلد ہی کولکاتہ کے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں ایک ریلی کرنے والے ہیں۔ اسدالدین اویسی یہاں خطاب کر کے بنگال میں مجلس کے رسمی لانچ کا اعلان کریں گے۔ فی الحال ہم نے ریلی کو لے کر تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے کیونکہ اویسی ان دنوں جھارکھنڈ میں ریلی کر رہے ہیں۔

Loading...

اے آئی ایم آئی ایم کی تیاری

وقار پچھلے تقریبا تین سال سے مجلس کے لئے بنگال میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ بنگال میں اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے میں 24 فروری 2017 سے کام کر رہا ہوں۔ کئی بار ہم نے زکریا اسٹریٹ میں چھوٹی میٹنگیں کی ہیں جس کا ہمیں اچھا رسپانس ملا ہے۔ اس کے بعد سے ہم نے بنگال میں 25 سے زیادہ میٹنگیں کی ہیں۔ آخری میٹنگ 24 ستمبر کو ہوئی تھی‘‘۔

وقار کے مطابق، ان کی اصلی لڑائی بی جے پی سے ہے نہ کہ ٹی ایم سی سے۔ انہوں نے کہا ’’ یہ ممتا دیدی پر ہے کہ وہ ہمیں اپنا دشمن سمجھتی ہیں یا دوست۔ ہم لوگ ہر حال میں 2021 میں الیکشن لڑنے جا رہے ہیں۔ اگر وہ ہمیں اپنا دوست مانتی ہیں تو ہم ساتھ مل کر لڑیں گے اور اگر دشمن مانتی ہیں تو پھر ہم ان کے خلاف لڑیں گے‘‘۔

ہر ضلع پر نظر

وقار نے دعویٰ کیا ہے کہ 23 میں سے 15 اضلاع میں ان کے کم سے کم 5 کارکنان ہیں۔ پارٹی کو امید ہے کہ اگلے الیکشن سے پہلے تقریبا ہر ضلع میں ان کے کارکنان موجود رہیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ سرحدی اضلاع جیسے کہ مرشدآباد، مالدہ، نارتھ اور ساؤتھ دیناج پور اور ہاوڑہ میں پارٹی مضبوطی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

ممتا کی اڑی نیند

سال 2016 کے الیکشن میں برسراقتدار ٹی ایم سی کو تقریبا 90 مسلم اکثریتی سیٹوں پر سبقت حاصل تھی۔ جبکہ بی جے پی کو صرف ایک سیٹ پر سبقت ملی تھی۔ لیفٹ اور کانگریس اتحاد کو 39 سیٹوں پر بڑھت ملی تھی۔ مجلس کے میدان میں آنے سے مسلم ووٹوں کی تقسیم ہو سکتی ہے۔ لہذا بی جے پی کے لئے یہ فائدہ مند ثابت ہو گا۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق، مجلس کے آنے سے ممتا کا سیاسی حساب بگڑ سکتا ہے۔

پچھلے ہفتے ممتا نے ٹی ایم سی کارکنان کے ساتھ میٹنگ میں پہلی بار’ اقلیتوں کی انتہا پسندی‘ کا ذکر کیا تھا اور لوگوں کو اس سے آگاہ رہنے کی ہدایت دی تھی۔ اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کا نام لئے بغیر انہوں نے اس پر نشانہ سادھا تھا۔ ممتا بنرجی نے کوچ بہار میں پارٹی کارکنان کے ساتھ ایک میٹنگ میں کہا تھا ’’ میں دیکھ رہی ہوں کہ اقلیتوں کے درمیان کئی انتہا پسند موجود ہیں۔ ان کا ٹھکانہ حیدرآباد میں ہے۔ آپ لوگ ان پر دھیان مت دیجئے‘۔

سجیت ناتھ کی رپورٹ

Loading...