ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

مغربی بنگال: سی اے اے کے خلاف قرارداد میں ان اہم سفارشات کو ممتا حکومت نے کیا نظر انداز، اپوزیشن کا الزام

لفٹ وکانگریس کی جانب سے قرارداد میں شامل کرنے کےلئے 8 پوائنٹس پر مشتمل سفارشات حکومت کو دی گئیں تھی

  • Share this:
مغربی بنگال: سی اے اے کے خلاف قرارداد میں ان اہم سفارشات کو ممتا حکومت نے  کیا نظر انداز، اپوزیشن کا الزام
مغربی بنگال: ممتابنرجی نے ایک بارپھرمجلس اتحادالمسلمین کو بنایا نشانہ، لگایا یہ بڑا الزام۔(تصویر:نیوز18اردو)۔

سی اےا ے کےخلاف حال ہی میں مغربی بنگال اسمبلی میں پ قرار داد کو منظور کرلیاگیاہے۔ اسمبلی ہاؤس میں وزیراعلی ممتابنرجی نے سی اے اے کو ناقابل قبول بتاتے ہوئے اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔کانگریس و لفٹ نے مغربی بنگال حکومت کی جانب سے پیش ہونے والی اس قرارداد کی حمایت تو کی ہے۔تاہم حکومت کے رویے پر ناراضگی کا اظہار کیا ۔لفٹ وکانگریس کی جانب سے قرارداد میں شامل کرنے کےلئے 8 پوائنٹس پر مشتمل سفارشات حکومت کو دی گئیں تھی ۔اہم کسی بھی سفارشات کو تسلیم نہیں کیا گیا ۔سفارشات میں اس بات کو شامل کے جانے کی اپیل کی گئی تھی کے سی اے اے و این آر سی نے ہندوستان کی امیج کو نقصان پہنچایا ہے تاہم قرارداد میں اسے شامل نہیں کیا گیا۔


اپوزیشن لیڈر عبدالمنان نے حکومت سے جواب مانگا کہ آخر قرارداد پیش کرنے میں حکومت نے تاخیر کیوں کی ؟۔تاہم حکومت کی جانب سے اس تعلق سے کوئی جواب نہیں دیا گیا وزیر اعلی ٰممتا بنرجی نے این پی آر بھی بنگال میں لاگو نہ کیے جانے کا اعلان کرتے کہا ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت این پی آر کے تعلق سے اپنا موقف صاف کرے۔


مغربی بنگال میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف قرار داد منظور ہونے کے بعد جماعت اسلامی نےممتا بنرجی سے یہ مطالبہ کیا ہے۔ فائل فوٹو: پی ٹی آئی
مغربی بنگال میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف قرار داد منظور ہونے کے بعد جماعت اسلامی نےممتا بنرجی سے یہ مطالبہ کیا ہے۔ فائل فوٹو: پی ٹی آئی


جبکہ بی جے پی نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے منظور سی اے اے کی مخالفت کو افسوسناک بتایا۔ ریاستی وزیر فرہاد حکیم نے سی اے اے و این ار سی کےخلاف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مخالفت کو اہم بتایا ۔انہوں نے لفٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس الزام کو غلط بتایا کے ترنمول کانگریس و بی جے پی کے درمیان کوئی خفیہ سمجھوتہ ہے بنگال اسمبلی میں2گھنٹے تک چلی بحث کے بعد قرارداد کو منظوری ملی گئی تھی۔
First published: Jan 29, 2020 06:38 PM IST