உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پہلے مرکزی وزیر شمال مشرق کے لوگوں کو حقارت سے دیکھتے تھے، اب ہم فخر سے کہتے ہیں- ہم بھی ہندوستانی ہیں: بیرن سنگھ

    Biren Singh on Modi impact on north-east: منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے انٹرویو میں کہا کہ مرکز میں وزیر اعظم مودی کے آنے سے پہلے ہندوستان کی مین اسٹریم کی پارٹیاں ہمیں توجہ نہیں دیتی تھیں۔ پہلے ہمیں شرم آتی تھی، لیکن اب ہم مودی جی کی وجہ سے ہندوستانی ہیں۔

    Biren Singh on Modi impact on north-east: منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے انٹرویو میں کہا کہ مرکز میں وزیر اعظم مودی کے آنے سے پہلے ہندوستان کی مین اسٹریم کی پارٹیاں ہمیں توجہ نہیں دیتی تھیں۔ پہلے ہمیں شرم آتی تھی، لیکن اب ہم مودی جی کی وجہ سے ہندوستانی ہیں۔

    Biren Singh on Modi impact on north-east: منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے انٹرویو میں کہا کہ مرکز میں وزیر اعظم مودی کے آنے سے پہلے ہندوستان کی مین اسٹریم کی پارٹیاں ہمیں توجہ نہیں دیتی تھیں۔ پہلے ہمیں شرم آتی تھی، لیکن اب ہم مودی جی کی وجہ سے ہندوستانی ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مرکز میں نریندر مودی حکومت کے 8 سال پورے ہونے کا جشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بڑے دھوم دھام سے منانے جا رہی ہے۔ اس سے پہلے منی پور کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر این بیرین سنگھ نے نیوز 18 سے خاص بات چیت کی۔ اس دوران انہوں نے شمال مشرق میں آئی تبدیلی، مودی حکومت کے اثر اور وزیر اعظم کے ساتھ اپنی انفرادی ملاقاتوں پر کھل کر بات کی۔ آئیے بتاتے ہیں، ان کی بات چیت کے نکات۔

      سوال: نریندر مودی کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟

      بیرین سنگھ: وزیر اعظم جی منفرد قسم کے لیڈر ہیں۔ وہ لیجنڈری ہیں۔ بی جے پی میں آنے سے پہلے میں نے کئی لیڈروں کے ساتھ کام کیا، لیکن وہ (وزیر اعظم) بہت الگ ہیں۔ وہ آئیڈیا تیار کرتے ہیں اور ہمارے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ وہ سیاسی فائدہ کے لئے کام نہیں کرتے۔ ان کی سوچ عام آدمی کے لئے ہے، عوام کے لئے ہے۔

      سوال: کیا آپ کو لگتا ہے کہ 2014 کے بعد مشرق اور شمال مشرق پر توجہ مرکوز کیا گیا ہے۔

      بیرین سنگھ: بہت اچھا سوال ہے۔ شمال مشرق کا باشندہ ہونے کے ناطے میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں پہلے کیا محسوس کرتا تھا اور اب کیا محسوس کرتا ہوں۔ مودی جی کے آنے سے پہلے ہندوستان کی مین اسٹریم کی پارٹیاں ہمیں توجہ نہیں دیتی تھی۔ جب ہم مرکز کے پاس جاکر کچھ کہنا چاہتے تھے، تو ہمیں ایسے مواقع نہیں دیئے جاتے تھے، جیسے آج ملتے ہیں۔ آج دہلی جانے پر ہر کوئی میری مدد کو تیار رہتا ہے۔ مثال کے لئے، 2017 میں حکومت بننے کے فوراً بعد میں دہلی گیا تھا۔ وزیر اعظم نے ‘گھر گھر جل‘ یوجنا کا اعلان کیا تھا۔ تب میں نے 3,500 کروڑ روپئے کی ایک تجویز دی۔ منی پور جیسی ریاست کے لئے 3,500 کروڑ بڑی بات تھی۔ ہمیں امید نہیں تھی کہ یوجنا کو منظوری مل پائے گی، لیکن میٹنگ کے بعد وزیر اعظم نے سینئر سیکریٹری سے کہا کہ کچھ کیجئے۔ ایک ہفتے کے اندر ہی یوجنا کو منظوری مل گئی، سات ماہ میں پروجیکٹ شروع ہوگیا۔

      سوال: اس کا مطلب شمال مشرق پر اب زور دیا جارہا ہے؟

      بیرین سنگھ: ہم اب فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم بھی ہندوستانی ہیں۔ پہلے ہمارے ساتھ ٹھیک سے برتاو نہیں ہوتا تھا۔ تب مرکزی وزرا کے رویے سے صاف نظر آتا تھا کہ وہ ہمیں نیچی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اب حالات بالکل الگ ہیں۔ مودی جی شمال مشرق کو اپنی فیملی مانتے ہیں۔ گزشتہ سات آٹھ سالوں میں مودی جی 50 سے زیادہ بار شمال مشرق کا دورہ کرچکے ہیں۔ ان کے کابینی وزرا آکر پوچھتے ہیں کہ کوئی ضرورت تو نہیں ہے۔ اس سے یہ احساس بڑھتا ہے کہ ہم ایک فیملی ہیں۔

      سوال: آپ کو وزیر اعظم مودی کے بارے میں کونسا دلچسپ قصہ یاد ہے؟

      بیرین سنگھ: وہ شمال مشرق کے لوگوں کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ انہوں نے منی پور کی تہذیب وثقافت کا خیال رکھا۔ کیا آپ لیرم کی (روایتی منی پوری تولیہ) کے بارے میں جانتے ہیں؟ جب میں دہلی گیا اور انہیں لیرم فی بھینٹ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سر، یہ ایک مشہور چیز ہے۔ ہم نے دیکھا کہ گنگا میں پاک ڈبکی لگاتے وقت انہوں نے اسے پہنا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ ہمارے لیرم فی کے بارے میں جانتے ہیں اور یہ ہندوستان کے قابل فخر تہذیب وثقافت کا حصہ ہے۔ یہ سن کر مجھے بہت اچھا لگا۔ وزیر اعظم جس طرح سے منی پور کے کھلاڑیوں کی تعریف کرتے ہیں، وہ بہت اچھا ہے۔ وہ دور اندیش ہیں۔ وہ سب سے الگ ہیں۔

      سوال: آپ مودی حکومت کو کتنے پوائنٹ دینا چاہیں گے؟

      بیرین سنگھ: صد فیصد سے زیادہ۔ آپ شمال مشرق اور ملک میں تبدیلی کو دیکھئے۔ دیکھئے، منی پور کیسے بدل گیا ہے۔ انر لائن پرمٹ سے AFSPA گھٹا دیا گیا ہے۔ یہاں پر واحد قومی کھیل یونیورسٹی ہے۔ منی پور کے شہیدوں کا انڈومان میں احترام کیا گیا ہے۔ انہوں نے (وزیر اعظم نے) منی پوریوں کے جذبات کو چھوا ہے۔ وہ 100 سے زیادہ پوائنٹ کے حقدار ہیں۔ پہلے ہمیں شرم آتی تھی، لیکن اب ہم ان کی وجہ سے ہندوستانی ہیں۔

      سوال: آپ وزیر اعظم سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟

      بیرین سنگھ: میں سچ میں وزیر اعظم مودی اور ان کی ٹیم کی سراہنا اور احترام کرنا چاہتا ہوں۔ میں بھگوان سے عبادت کرتا ہوں کہ وہ 15 سال سے زیادہ وقت تک بنے رہیں کیونکہ مودی جی جیسا لیڈر ملنا بہت مشکل ہے۔ وہ واحد ایسے لیڈر ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر ہماری قیادت کرسکتے ہیں۔ اگر وہ بنے رہے تو ہمارا ملک دنیا میں سب سے اوپر ہوگا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: