ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بڑی خبر: منی پور میں خطرے میں بی جے پی کی اتحادی حکومت، تین اراکین اسمبلی کانگریس میں شامل

منی پور میں بی جے پی کے تین اراکین اسمبلی نے بدھ کو پارٹی چھوڑ کر کانگریس کا دامن تھام لیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ وائی جائے کمار سنگھ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے ساتھ تین دیگر وزرا نے بھی استعفیٰ دیا ہے۔

  • Share this:
بڑی خبر: منی پور میں خطرے میں بی جے پی کی اتحادی حکومت، تین اراکین اسمبلی کانگریس میں شامل
بڑی خبر: منی پور میں خطرے میں بی جے پی کی اتحادی حکومت

نئی دہلی: کورونا وبا (Coronavirus) کے درمیان منی پور (Manipur) میں بی جے پی (BJP) کی اتحادی حکومت خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ریاست میں بی جے پی کے تین اراکین اسمبلی نے بدھ کو پارٹی چھوڑ کر کانگریس کا دامن تھام لیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ وائی جائے کمار سنگھ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے ساتھ تین دیگر وزرا نے بھی استعفیٰ دیا ہے۔ ساتھ ہی ایک ترنمول کانگریس اور ایک آزاد رکن اسمبلی نے حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی ہے۔


بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہونے والے تینوں اراکین اسمبلی کے نام ایس سبھاش چندر سنگھ، ٹی ٹی ہاوکپ اور سیموئل جیندئی ہیں۔ ان کے علاوہ نیشنل پیپلز پارٹی (NPP) کی طرف سے نائب وزیراعلیٰ وائی جائے کمار سنگھ، وزیر این کائسی، وزیر ایل جینت کمار سنگھ اور لیت پاو ہاوکپ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

 ان کے ساتھ ہی ترنمول کانگریس (TMC) کے رکن اسمبلی ٹی ربندرو سنگھ اور آزاد رکن اسمبلی شہاب الدین نے حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی ہے۔





واضح رہے کہ منی پور میں ابھی این بیرین سنگھ وزیر اعلیٰ ہیں۔ بدھ کو بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہونے والے اراکین اسمبلی اور عہدے سے استعفیٰ دینے والے وزرا نے کانگریس کو حمایت کی بات کہی ہے۔ ایسے میں ریاست میں کبھی بھی صدر راج نافذ کئے جانے سے متعلق فیصلہ ہو سکتا ہے۔ وہیں موجودہ اپوزیشن جماعت کانگریس پوری طرح سے مطمئن ہے کہ اوکرام ابوبی کو منی پور کا وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق اس معاملے میں کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی نے میٹنگ بھی کی ہے۔ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ کانگریس جمعرات کو منی پور میں حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرسکتی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ کانگریس، بی جے پی اور دیگر جماعتوں کے کچھ اراکین اسمبلی سے رابطہ کر رہی ہے۔ یہ بھی بات سامنے آرہی ہے کہ جمعرات کو دو مزید اراکین اسمبلی میں شامل ہو سکتے ہیں۔


 
First published: Jun 17, 2020 11:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading