ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک: اقلیتوں کی کئی اسکیمیں بند ہوسکتی ہیں، اگر حکومت نے نہیں اٹھایا یہ قدم

کرناٹک میں اقلیتوں کی فلاح و بہبودی کی اسکیمیں مشکل دور سے گزر رہی ہیں۔ رواں مالیاتی سال میں کئی اسکیموں پر عمل آوری ہی نہیں ہوئی ہے۔ جبکہ کے کئی اسکیموں کے فنڈز میں بھاری کٹوتی کی گئی ہے۔ ریاست میں اقلیتوں کا کوئی پرسان حال ہے یا نہیں یہ سوال ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ویسے تو حکومت نے تقریبا تمام محکموں کے بجٹ میں کمی کی ہے۔

  • Share this:
کرناٹک: اقلیتوں کی کئی اسکیمیں بند ہوسکتی ہیں، اگر حکومت نے نہیں اٹھایا یہ قدم
کرناٹک: اقلیتوں کی کئی اسکیمیں بند ہوسکتی ہیں، اگر حکومت نے نہیں اٹھایا یہ قدم

بنگلور: کرناٹک میں اقلیتوں کی فلاح و بہبودی کی اسکیمیں مشکل دور سے گزر رہی ہیں۔ رواں مالیاتی سال میں کئی اسکیموں پر عمل آوری ہی نہیں ہوئی ہے۔ جبکہ کے کئی اسکیموں کے فنڈز میں بھاری کٹوتی کی گئی ہے۔ ریاست میں اقلیتوں کا کوئی پرسان حال ہے یا نہیں یہ سوال ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ویسے تو حکومت نے تقریبا تمام محکموں کے بجٹ میں کمی کی ہے۔ لیکن اس کارروائی کا اثر اقلیتی محکمہ پر کچھ زیادہ ہی دکھائی دے رہا ہے۔ بذات خود ریاست کی اقلیتی کمیشن نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سنگین مسئلہ پر اقلیتی کمیشن کے صدر عبدالعظیم کی قیادت میں بنگلورو میں ایک وفد نے وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا سے ملاقات کی اور تحریری طور پر اقلیتی اسکیموں کی زبوں حالی کو بیان کیا۔ وفد میں اقلیتی ترقیاتی کارپوریشن کے صدر مختار پٹھان بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ ان دنوں وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا ریاست کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے بجٹ 2021-22 کی تیاری میں مصروف ہیں اور مختلف شعبوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں اور رائے مشورہ کررہے ہیں۔ کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیرمین عبدالعظیم کی جانب سے پیش کی گئی عرضداشت کے مطابق سال 2017-18 میں محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے 2 ہزار 145 کروڑ 13 لاکھ روپئے فراہم کئے گئے تھے۔  سال 2018-19 میں اقلیتی محکمے کیلئے 2 ہزار 142 کروڑ 35 لاکھ روپئے حکومت نے فراہم کئے تھے۔ سال 2019-20 میں ایک ہزار 666 کروڑ 13 لاکھ روپئے فراہم کئے گئے تھے۔  لیکن سال 2020-21 میں صرف 653 کروڑ 54 لاکھ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔  قابل غور بات یہ ہے کہ اس بھاری کٹوتی کے باوجود اقلیتی محکمہ کو مکمل رقم ریلیز نہیں کی گئی ہے۔


اقلیتی کمیشن کے مطابق دسمبر 2020 تک صرف 358 کروڑ 14 لاکھ روپئے ہی جاری کئے گئے ہیں۔ ریاستی اقلیتی کمیشن نے ڈائریکٹوریٹ آف مائناریٹیز کی 8 اسکیموں کا ذکر کیا ہے جن پر رواں مالیاتی سال میں عمل آوری ہی نہیں ہوئی ہے۔  ان اسکیموں میں شادی محلوں کی تعمیر کی اسکیم، اسکل ڈیولپمنٹ اسکیم، فی ری ایمبرسمنٹ اسکیم، ودیا سری اسکیم، ٹیوشن فی اسکیم، شادی بھاگیہ کے نام سے مشہور بدائی اسکیم، نجی تعلیمی اداروں کیلئے گرانٹ ان ایڈ اسکیم اور وزیر اعلی اقلیتی ترقیاتی پروگرام۔ کرناٹک اقلیتی کمیشن کے چیرمین عبدالعظیم نے کہا ہے کہ ان اسکیموں کو زندہ رکھنے کیلئے حکومت کو کم سے کم رقم مختص کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اسکیمیں بند ہوجاتی ہیں تو حکومت کو دوبارہ کابینہ کی منظوری حاصل کرتے ہوئے از سر نو اسکیموں کا اعلان کرنا پڑے گا۔

اقلیتی کمیشن نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ کورونا وبا، سیلاب اور دیگر مسائل کی وجہ سے ریاست کو معاشی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ لیکن حکومت کو چاہئے کہ جن اسکیموں پر روک لگائی گئی ہے ان اسکیموں کیلئے حکومت آنے والے بجٹ میں کم سے کم رقم مختص کرے۔ معاشی حالات کے بہتر ہونے کے بعد حکومت ان اسکیموں کو مناسب فنڈز فراہم کرسکتی ہے۔

اقلیتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے کئی اسکیموں کے فنڈز میں زبردست کٹوتی کی ہے۔ پی ایچ ڈی اور ایم فل کے طلبہ کو اقلیتی محکمے کے ذریعہ  ماہانہ 25000 ہزار روپئے فراہم کرنے کی اسکیم موجود ہے۔ لیکن اس اسکیم کے فنڈ میں کی گئی کٹوتی کے بعد فی طالب علم کو 25000 کے بجائے صرف 8334 روپئے ہی مل رہے ہیں۔بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند اقلیتی طلبہ کیلئے اوور سیز اسکالر شپ کی اسکیم موجود ہے لیکن سال 2020-21 میں اس اسکیم کیلئے ایک روپیہ بھی فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے مالی مدد فراہم کرنے کی بدائی اسکیم ، جو کافی مقبول ہے، اس اسکیم کیلئے بھی کوئی رقم فراہم نہیں کی گئی ہے۔
اقلیتی ترقیاتی کارپوریشن (KMDC)  کے بجٹ میں بھی زبردست کٹوتی ہوئی ہے۔ سال 2019-20 میں کے ایم ڈی سی کو تقریبا 150 کروڑ روپئے جاری کئے گئے تھے لیکن سال 2020-21 میں صرف 71 کروڑ 54 لاکھ روپئے دئے گئے ہیں۔ اس طرح کرناٹک اقلیتی کمیشن نے اقلیتی فلاح و بہبود کی اسکیموں کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عبدالعظیم نے کہا کہ آنے والے بجٹ میں محکمہ اقلیتی فلاح و بہبودی کیلئے  2 ہزار کروڑ روپئے فراہم کرنے کی وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا سے درخواست کی گئی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 09, 2021 11:40 PM IST