உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    National Education Policy:قومی تعلیمی پالیسی کی تقریباً 200 سفارشوں پر اسی سال ہوگا عمل

    اسکول جاتی ہوئی طالبات۔ (فائل فوٹو)

    اسکول جاتی ہوئی طالبات۔ (فائل فوٹو)

    National Education Policy: پالیسی سے متعلق زیادہ تر سفارشات کو اس سال بھی لاگو کیا جا رہا ہے کیونکہ حکومت کو اب ایسا مناسب وقت ملنا مشکل ہو رہا ہے۔ حکومت 2024 کے عام انتخابات کے پیش نظر اگلے سال سے انتخابی موڑ میں داخل ہو گی۔

    • Share this:
      National Education Policy:نئی دہلی: آنے والے دنوں میں تعلیم میں اصلاحات کی مہم تیز ہو سکتی ہے۔ بہت سے زیر التوا معاملات میں بھی پیش رفت دیکھے کو ملے گی جیسے ہائر ایجوکیشن کمیشن آف انڈیا (HEKI) اور نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (NRF) کی تشکیل۔ وزیر اعظم کی ہدایت کے بعد وزارت تعلیم اس وقت قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) سے متعلق سفارشات پر تیزی سے عمل درآمد میں مصروف ہے۔ اس سلسلے میں مقرر کردہ اہداف میں اس سال NEP سے متعلق تقریباً 200 سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

      اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی تشکیل کو لے کر اہم میٹنگ
      اسی سلسلے میں وزیر تعلیم نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف انڈیا کی تشکیل کے حوالے سے ایک اہم میٹنگ کی ہے۔ NEP کے نفاذ کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ گزشتہ ہفتے وزیر اعظم کی طرف سے NEP کے نفاذ کے حوالے سے بلائے گئے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کیا گیا۔ اس میں وزیر تعلیم سمیت وزارت کے تمام اعلیٰ حکام اور پالیسی پر عمل درآمد سے متعلق ماہرین بھی موجود تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Green Hydrogen Mission:مستقبل کے ایندھن ہائیڈروجن سے ہندوستان کی ہوگی اونچی پرواز

      میٹنگوں کا دور ہوا تیز
      خاص بات یہ ہے کہ وزیراعظم کے جائزے کے بعد پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے وزارت میں اجلاسوں کا دور تیز ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ طے شدہ اہداف پر عمل درآمد کا نئے سرے سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس وقت جو حکمت عملی تیار کی گئی ہے اس میں پالیسی کا بڑا حصہ اس سال لاگو کیا جائے گا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      شیوسینا کی ریلی میں Uddhav Thackerayکی للکار،کہا-بی جے پی داود کو بھی لڑواسکتی ہے الیکشن

      ان سفارشات میں سے ہر ایک کو ہدف کے طور پر رکھا گیا ہے۔ پالیسی سے متعلق زیادہ تر سفارشات کو اس سال بھی لاگو کیا جا رہا ہے کیونکہ حکومت کو اب ایسا مناسب وقت ملنا مشکل ہو رہا ہے۔ حکومت 2024 کے عام انتخابات کے پیش نظر اگلے سال سے انتخابی موڑ میں داخل ہو گی۔ ایسے میں اس کے لیے بڑے فیصلے لینا مشکل ہو جائے گا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: