ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ٖمراٹھا ریزرویشن : سپریم کورٹ نے ریاستوں سے پوچھا : کیا ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے زیادہ کی جاسکتی ہے ؟

نوکریوں اور داخلوں میں مراٹھا برادری کے لوگوں کو ریزرویشن دینے کیلئے سماجی اور تعلیمی طور سے پچھڑا طبقہ ( ایس ای بی سی ) قانون 2018 کو لاگو کیا گیا تھا ۔

  • Share this:
ٖمراٹھا ریزرویشن : سپریم کورٹ نے ریاستوں سے پوچھا : کیا ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے زیادہ کی جاسکتی ہے ؟
مراٹھا ریزرویشن : سپریم کورٹ نے پوچھا : کیا ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے زیادہ کی جاسکتی ہے؟

تعلیم اور نوکریوں میں مراٹھا کمیونٹی کو ریزرویشن دینے سے متعلق مہاراشٹر کے 2018 کے قانون کو لے کر داخل عرضیوں پر پیر سے سپریم کورٹ نے سماعت شروع کی ہے ۔ اس دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ ریزرویشن کے معاملات پر سبھی ریاستوں کو سنا جانا ضروری ہے ۔ ایسے میں سپریم کورٹ نے سبھی ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا اور پوچھا کہ کیا ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے زیادہ بڑھائی جاسکتی ہے ؟ مراٹھا ریزرویشن پر اس سماعت کو 15 مارچ تک کیلئے ملتوی کردیا گیا ہے ۔


گزشتہ سال نو دسمبر کو عدالت عظمی نے کہا تھا کہ مہاراشٹر کے 2018 کے قانون سے وابستہ معاملات پر فوری سماعت کی ضرورت ہے کیونکہ قانون زیر التوا ہے اور لوگوں تک اس کا فائدہ نہیں پہنچ پارہا ہے ۔ بتادیں کہ نوکریوں اور داخلوں میں مراٹھا برادری کے لوگوں کو ریزرویشن دینے کیلئے سماجی اور تعلیمی طور سے پچھڑا طبقہ ( ایس ای بی سی ) قانون 2018 کو لاگو کیا گیا تھا ۔



پیر کو معاملہ کی سماعت کے دوران سینئر وکیل مکل روہتگی نے کہا کہ اس معاملہ میں آرٹیکل 342 اے کی تشریح بھی شامل ہے ۔ ایسے میں یہ سبھی ریاستوں کو متاثر کرسکتا ہے ۔ اس لئے ایک عرضی داخل ہوئی ہے ، جس میں عدالت کو سبھی ریاستوں کو سننا چاہئے ۔ مکل روہتگی نے کہا کہ سبھی ریاستوں کو سنے بغیر اس معاملہ میں فیصلہ نہیں دیا جاسکتا ہے ۔

جسٹس اشوک بھوشن کی صدارت والی پانچ ججوں کی آئینی بینچ اس معاملہ کی سماعت کررہی ہے ۔ اس بینچ میں جسٹس ایل ناگیشور راو ، جسٹس ایس عبد النظیر ، جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس ایس رویندر بھٹ بھی ہیں ۔

اس سے پہلے کی سماعت میں بینچ نے کہا تھا کہ وہ اس معاملہ پر ھی دلائل سنے گی کہ اندرا ساہنی معاملہ میں تاریخی فیصلہ ، جس کو منڈل فیصلہ کے نام سے جانا جاتا ہے ، اس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 08, 2021 02:20 PM IST