تعلیم وتربیت کے ذریعہ انتہا پسندی ودہشت گردی کا علاج ممکن : مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

تربیت کے بغیرتعلیم کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ تعلیم تربیت کے بغیر الٹازہربن جاتی ہے۔ اگر تعلیم کے ساتھ صحیح تربیت کی جائے تو انسان رب کافرماں بردارتو بنتاہی ہے انسانیت کا بھی سچابہی خواہ وہمدردبن جاتاہے ۔

Oct 14, 2019 10:32 PM IST | Updated on: Oct 14, 2019 10:33 PM IST
تعلیم وتربیت کے ذریعہ انتہا پسندی ودہشت گردی کا علاج ممکن : مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

تعلیم وتربیت کے ذریعہ انتہا پسندی ودہشت گردی کا علاج ممکن : مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

تربیت کے بغیرتعلیم کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ تعلیم تربیت کے بغیر الٹازہربن جاتی ہے۔ اگر تعلیم کے ساتھ صحیح تربیت کی جائے تو انسان رب کافرماں بردارتو بنتاہی ہے انسانیت کا بھی سچابہی خواہ وہمدردبن جاتاہے ۔اس کے بعد وہ وہی کام کرتاہے جورب کی رضااور انسانیت کے مفاد میں ہوتاہے ۔انتہاپسندی و دہشت گردی کو نہ صرف پاس پھٹکنے نہیں دیتا بلکہ اس کے بیکٹیریاکو معاشرے سے نیست ونابود کرنے کے لئے ہمہ وقت فکرمندرہتاہے ۔وہ قوم وملت وانسانیت کی خدمت کو اپنا نصب العین بنالیتاہے ۔ ائمہ و معلمین انسانیت کی خدمت میںمؤثر کردار ادا کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ موصوف گذشتہ شام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا، نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام دس روزہ بارہویں آل انڈیا ریفریشر کورس برائے ائمہ، دعاۃ و معلمین کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے دعوت واصلاح اور تعلیم وتربیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ انبیاء کرام کا مشن ہے اوراس راستے میں ابتلاء وآزمائش آناکوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سب دعوت کا خاصہ ہے ۔سب سے بڑا انسان وہ ہے جو مصائب ومشکلات برداشت کرکے اپنے فرض منصبی کو اداکرلے جائے ۔لہٰذا ملک ومعاشرہ اور اللہ کی زمین سے فساد و بگاڑ اور ظلم ودہشت گردی کو مٹانے اور امن وآشتی اور اصلاح و سدھار کی راہ میںپیش آنے والی دشواریوںسے گھبرانے کی بجائے ہمت وحوصلہ، استقلال واستقامت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے دنیامیں پھیل جاناچاہئے اورفرض منصبی کی ادائیگی میں کسی بھی سستی وکاہلی نیزلاپرواہی یا بددلی کو پاس نہیں پھٹکنے دینا چاہئے۔یہ مشن بہت ہی عظیم الشان ہے اورموجودہ دور کے حالات اس کے متقاضی ہیں۔ اسی کے پیش نظر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندنے اس کا بیڑااٹھایاہے اورتسلسل کے ساتھ اس کا انعقاد کرتی ہے۔

اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے امیرانجینئر سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ میرے لئے یہ انتہائی مسرت واعزاز کی بات ہے کہ اس دورہ تدریبیہ کے اختتامی پروگرام میں شرکت کا موقعہ ملا ۔شرکاء دورہ بڑے ہی خوش نصیب ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دعوتی مشن کے لئے منتخب کیا ہے۔آپ حضرات زندگی بھر سیکھنے کا مزاج بنائیں ۔وہی قوم ترقی کرتی ہے جو قوم آخری سانس تک سیکھتی ہے۔پھر اسلام کے لئے کام کرنے والوں کے لئے تو یہ اورضروری ہوجاتاہے ۔زمانہ بڑی تیز رفتاری سے ترقی کررہاہے ہمیں بھی اپنے مشن میں اتنی ہی تیز لانی پڑے گی تبھی کامیابی نصیب ہوگی۔انہوں نے مرکزی جمعیت کے ذمہ داران کو اس دورہ کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور اسے جمعیت کا بڑا کارنامہ بتایا۔

مولاناآزاد یونیورسٹی جودھپورکے صدرپروفیسر اخترالواسع نے مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی کا خصوصا اورجملہ ذمہ داران کا عموما اس دورہ کے انعقاد پر شکریہ اداکیا اور مبارکباد پیش کی۔انہوں نے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ دنیامیں آج مسلمانوں کی گھیرابندی ہورہی ہے جس کے سد باب کے لئے علماء کرام کو تیارہوناچاہئے۔مرکزی جمعیت کی قیادت نے اس کام کا بیڑااٹھایاہے اس کے لئے وہ مبارکباد کی مستحق ہے۔اقلیتی کمیشن دہلی کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اس پروگرام میں شرکت کو اپنے لئے اعزاز کی بات بتایااورکہاکہ جمعیت کی تاریخ بہت پرانی ہے اور اس کی گوناگوں خدمات ہیں جن سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔

Loading...

Loading...