உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نہ گرفتار ہوا اور نہ ہی حراست میں لیا گیا مسعود اظہر: سرکاری حکام

    نئی دہلی۔ پاکستان واقع دہشت گرد گروپ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو نہ ہی گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے نظربند کیا گیا ہے۔

    نئی دہلی۔ پاکستان واقع دہشت گرد گروپ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو نہ ہی گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے نظربند کیا گیا ہے۔

    نئی دہلی۔ پاکستان واقع دہشت گرد گروپ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو نہ ہی گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے نظربند کیا گیا ہے۔

    • IBN7
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ پاکستان واقع دہشت گرد گروپ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو نہ ہی گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے نظربند کیا گیا ہے۔ جبکہ اس کے تین جونیئر ساتھیوں کو جس معاملے میں حراست میں لیا گیا ہے اس کا پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

      انٹیلی جنس معلومات کے حوالے سے سرکاری حکام نے بتایا کہ اظہر کے خلاف پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے اور ہندستان میں کئی حملوں کے لئے ذمہ دار دہشت گرد گروپ کے رہنما کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی نظر نہیں آئی ہے۔

      پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے جیش محمد کے تین جونیئر سطح کے عہدیداروں کو حراست میں لیا ہے لیکن انہیں کچھ دستاویزات کے سلسلے میں پکڑا گیا ہے اور اس کا دو جنوری کو پٹھان کوٹ فضائیہ اڈے پر حملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پٹھان کوٹ حملے میں سات سیکورٹی شہید ہوئے تھے جبکہ چھ دہشت گردوں کو ڈھیر کر دیا گیا تھا۔

      حکام نے کہا کہ پٹھان کوٹ واقعہ کے بعد اظہر کو حراست میں لیے جانے کی ابتدائی خبریں پوری طرح غلط تھیں اور شبہ ہے کہ انہیں کچھ پاکستانی ایجنسیوں نے پھیلایا ہے۔ پاکستان نے اب تک ہندستان کو مطلع نہیں کیا ہے کہ اس نے جیش محمد یا اس کے کسی کارکن کے خلاف پٹھان کوٹ حملے کو لے کر کوئی مجرمانہ معاملہ درج کیا ہے۔

      افسران نے کہا کہ پاکستان چونکہ یہ اعلان کر چکا تھا کہ جیش محمد سے وابستہ بہت سے لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے، اسے اس بات کا بھی انکشاف کرنا چاہئے کہ ان لوگوں کو کس قانون کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور کیا تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ ہندستان نے پاکستان کو کچھ موبائل نمبر دیے ہیں جن کا استعمال پنجاب کے حساس فضائیہ ٹھکانے پر حملہ کرنے والے چھ دہشت گردوں کے رہنماوں نے کیا تھا۔ حکام نے بتایا کہ ان نمبروں کے مالکان کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔
      First published: