ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر امڈا عوامی سیلاب ، زبردست مظاہرہ

مظاہرین نے حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو شہریت ترمیمی قانون واپس لینا ہوگا ، کیونکہ یہ قانون آئین کے خلاف ہے اور ملک کے لوگوں میں بھید بھاو کرتا ہے ۔

  • Share this:
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر امڈا عوامی سیلاب ، زبردست مظاہرہ
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر امڈا عوامی سیلاب ، زبردست مظاہرہ

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ سے اٹھنے والی آواز مزید تیز ہوتی جارہی ہے ۔ دہلی کے جنتر منتر پر الائنس اگینسٹ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے بینر تلے احتجاجی مظاہرہ میں سینکڑوں کی تعداد میں جنتر منتر پر مظاہرین جمع ہوئے ۔ خاص بات یہ رہی کہ جہاں بڑی تعداد میں خواتین جنتر منتر پر مظاہرہ کرنے کیلئے پہنچیں ، تو وہیں مسلم تنظیموں کی جانب سے جماعت اسلامی ہند کے علاوہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ، اے پی سی آر اور لوک راج سنگٹھن سمیت ایک درجن تنظیموں کے کارکنان بھی مظاہرہ میں شامل ہوئے ۔ مظاہرین نے حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو شہریت ترمیمی قانون واپس لینا ہوگا ، کیونکہ یہ قانون آئین کے خلاف ہے اور ملک کے لوگوں میں بھید بھاو کرتا ہے ۔


مظاہرہ میں شامل خواتین نے کہا کہ ہمارے آبا و اجداد اسی مٹی سے پیدا ہوئے تھے اور یہاں سے ہم کہیں نہیں جائیں گے ۔ مظاہرین نے حکومت پر زندگی سے وابستہ ایشوز کو دبانے اور انہیں نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ۔ مظاہرہ میں پہنچے آر جے ڈی کے ممبر پارلیمنٹ منوج جھا نے کہا کہ یہ گاندھی کا ملک ہے اور یہاں اسرائیل کا نظریہ نہیں چلے گا ۔ منوج جھا نے کہا کہ اب آپ لوگ جاگ چکے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ٹکڑے ٹکڑے گینگ کا لفظ استعمال کرتے ہیں وہ ملک کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ ہمارے ملک کیلئے بے مثال لمحہ ہے ، یہ آگے بڑھے گا اور انہیں قانون واپس لینا ہوگا ۔ اگر پیار سے نہیں لیا تو گاندھی وادی طریقہ سے انہیں مجبور کردیا جائے گا ۔ اس سے ہمارے ملک کا نقصان ہوا ۔ گاندھی کے ملک اور اسرائیل کے نظریہ کا فرق مٹ گیا ۔


مظاہرین نے حکومت پر زندگی سے وابستہ ایشوز کو دبانے اور انہیں نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ۔ تصویر : خرم علی شہزاد ۔
مظاہرین نے حکومت پر زندگی سے وابستہ ایشوز کو دبانے اور انہیں نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ۔ تصویر : خرم علی شہزاد ۔


جے این یو طلبہ یونین کے سابق صدر سائیں بالا جی نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج آئین بچانے کی لڑائی ہے ۔ بالاجی نے کہا کہ دہلی کے الیکشن میں شاہین باغ اور شہریت قانون کے خلاف احتجاج کو اس لئے ایشو بنایا جارہا ہے ، کیونکہ کچھ لوگوں کے پاس کوئی ایشو نہیں ہے ۔

مظاہرین نے حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو شہریت ترمیمی قانون واپس لینا ہوگا ۔ تصویر : خرم علی شہزاد ۔
مظاہرین نے حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو شہریت ترمیمی قانون واپس لینا ہوگا ۔ تصویر : خرم علی شہزاد ۔


آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج انتخابی ایشو نہیں ہے ، جو لوگ اس کو انتخابی ایشو بنا رہے ہیں وہ اس کی مخالفت کررہے ہیں ۔ نوید حامد نے کہا کہ حکومت خواتین سے بلند ہونے والی مخالفت کی صدا سے ڈر گئی ہے ۔ مظاہرہ میں شامل ہونے والوں میں جماعت اسلامی ہند کے انجینئر محمد سلیم ، مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر اور ویلفیئر پارٹی کے صدر قاسم رسول الیاس ، لوک راج سنگٹھن کے صدر راگھون کے ساتھ الائنس اگینسٹ سی اے اے ، این آر سی ، این پی آر کے کنوینر مجبتی فاروق سمیت کثیر تعداد میں سماجی کارکنان شامل ہوئے ۔
First published: Jan 29, 2020 11:35 PM IST