உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کام کی بات: مشت زنی کوئی بیماری نہیں، لیکن لت کسی بھی چیز کی بری ہے

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    میں ایک 23 سال کا لڑکا ہوں اور مجھے مشت زنی کی لت ہے۔ یہ اس حد تک ہے کہ اگر نہ کروں تو پریشان یو جاتا ہوں۔

    • Share this:
      سوال۔۔میں ایک 23 سال کا لڑکا ہوں اور مجھے مشت زنی کی لت ہے۔ یہ اس حد تک ہے کہ اگر نہ کروں تو پریشان یو جاتا ہوں، کمزوری محسوس کرتا ہوں۔ کیا مجھے کوئی بیماری ہو گئی ہے؟ میں اس لت سے کیسے چھٹکارا پاؤں؟

      سیکسالوجسٹ ڈاکٹر پارس شاہ

      سب سے پہلے تو یہ غلط فہمی اپنے دماغ سے نکال دیجئے کہ آپ کو کوئی بیماری ہے۔مشت زنی کوئی بیماری نہیں ہے۔ یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے اس لئے اسے لیکر اپنے من میں مجرمانہ احساس پالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے یہاں سیکس ایجوکیشن کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ اسکول اور کالج میں کبھی اس بارے میں لڑکوں ۔لڑکیوں کو کوئی تعلیم نہیں دی جاتی۔ اس لئے ہمیں صحیح غلط کا پتہ نہیں چلتا ہے۔ جوانی تک پہنچنے کے بعد جسم میں ایسے ہارمون تبدیل ہوتے ہیں کہ جنسی خواہشات کا پیدا ہونا فطری ہے۔ لڑکے۔لڑکیوں دونوں میں جنس مخالف کے تئیں اٹریکشن ہوتا ہے۔ ان میں جنسی خواہشات پیدا ہوتی ہیں۔ مشت زنی کی شروعات بھی اسی کا احساس ہے۔ یہ اطمینان بخش اور فطری ہوتا ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں۔اس لئے اسے لیکر نہ ڈریں، نہ من میں کوئی بھرم یا وہم نہ  پالیں اور نہ ہی مجرمانہ احساس محسوس کریں۔

      اب آتے ہیں آپ کی دوسری پریشانی پر۔ آپ نے کہا کہ آپ کو مشت زنی کی لت لگ گئی ہے۔یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مشت زنی اپنے آپ میں تو کوئی بیماری نہیں  لیکن لت کسی بھی چیز کی اچھی نہیں ہوتی۔ جیسے سگریٹ،شراب،چائے،کافی کی لت اچھی نہیں ہے ویسے ہی اگر مشت زنی بھی لت میں بدل جائے تو یہ صحیح علامت نہیں ہے۔

      (ڈاکٹر پارس شاہ ساندھیہ ملٹی اسپشلیٹی ہاسپیٹل احمد آباد ، گجرات میں چیف کنسلٹنٹ سیکسولاجسٹ ہیں)۔

      اگر آپ کے دل میں کوئی بھی سوال یا تجسس ہے تو آپ اس ای میل پر ہمیں ای میل بھیج سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہ آپ کے سبھی سوالوں کا جواب دیں گے۔

      Ask.life@nw18.com

       
      First published: