ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مصلح قوم اور صحافت کے نقیب تھے مولانا ابوالکلام آزاد، یوم وفات پر مجاہد آزادی کو یاد کیا گیا

مولانا ابوالکلام آزاد کا بھوپال سے خاص رشتہ رہا ہے۔ مولانا آزاد کی دو بہنیں آرزو بیگم اور آبرو بیگم کی شادی بھوپال میں ہی ہوئی تھی۔ دونوں بہنوں کو ریاستی عہد میں خاص مقام حاصل تھا۔ آرزو بیگم نواب سلطان جہاں بیگم کی مشیر خاص تھیں تو آبرو بیگم نواب سلطان جہاں بیگم کی پرسنل سکریٹری رہیں۔

  • Share this:
مصلح قوم اور صحافت کے نقیب تھے مولانا ابوالکلام آزاد، یوم وفات پر مجاہد آزادی کو یاد کیا گیا
مصلح قوم اور صحافت کے نقیب تھے مولانا ابوالکلام آزاد، یوم وفات پر مجاہد آزادی کو یاد کیا گیا

بھوپال: ابوالکلام محی الدین احمد آزاد کا شمار ملک کے صف اول کے مجاہدین آزادی میں ہوتا ہے۔ مولانا آزاد ایک مفکر، مدبر، مصلح قوم، انشا پردار، مفسر قران اور صحافت کے نقیب تھے۔ انہوں نے جس میدان میں بھی قلم اٹھایا، اپنی تحریر اور تقریر سے امٹ نقوش مرتب کئے ہیں۔ مولانا آزاد سیاسی مسلک میں آل انڈیا کانگریس کے ہمنوا تھے، مگران کا دل مسلمانوں اور ہندوستانیوں کے لئے تڑپتا تھا۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔

مولانا ابوالکلام آزٓاد کی ولادت 11 نومبر 1888 کو مکہ مکرمہ میں ہوئی اور انتقال 22 فروری 1958 کو دہلی میں ہوا۔ مولانا آزاد کی والدہ کا تعلق مدینہ منورہ سے تھا۔ سلسلہ نسب شیخ جمال الدین افغانی سے ملتا ہے، جو عہد اکبری میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ مولانا آزادکا بچپن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے اپنے والد محمد خیر الدین سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے جامعہ اظہر سے تعلیم حاصل کی۔ 14 سال کی عمر میں مولانا آزاد نے علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کرلیا تھا۔ 15 سال کی عمر میں انہوں نے ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے الہلال اور البلاغ جاری کیا تھا، جس نے ان کی ذہانت کو اہل وطن کے دلوں پر ثبت کردیا۔


مولانا ابوالکلام آزٓاد کی ولادت 11 نومبر 1888 کو مکہ مکرمہ میں ہوئی اور انتقال 22 فروری 1958 کو دہلی میں ہوا۔
مولانا ابوالکلام آزٓاد کی ولادت 11 نومبر 1888 کو مکہ مکرمہ میں ہوئی اور انتقال 22 فروری 1958 کو دہلی میں ہوا۔


مولانا ابوالکلام آزاد کا بھوپال سے خاص رشتہ رہا ہے۔ مولانا آزاد کی دو بہنیں آرزو بیگم اور آبرو بیگم کی شادی بھوپال میں ہی ہوئی تھی۔ دونوں بہنوں کو ریاستی عہد میں خاص مقام حاصل تھا۔ آرزو بیگم نواب سلطان جہاں بیگم کی مشیر خاص تھیں تو آبرو بیگم نواب سلطان جہاں بیگم کی پرسنل سکریٹری رہیں۔ یہی نہیں جب عہد نواب سلطان جہاں بیگم میں بھوپال میں 1910 میں لیڈیز کلب کی بنیاد رکھی گئی تو مولانا آزاد کی بہنوں نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ مولانا آزاد کا بھوپال سے خاص رشتہ ہونے کے سبب ہر سال مختلف تنظیموں کے ذریعہ مولانا آزاد کی یوم ولادت اور یوم وفات پر بڑی تقریب کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے، مگر کورونا کے سبب یوم دلادت کے موقعہ پر 11 نومبر کو بھی مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اور یوم  وفات کے موقعہ پر جمعیۃ علما ہند کے زیر اہتمام کووڈ- ۱۹ کے سبب مختصر تقریب کا انعقاد کرکے مولانا آزاد کی حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔
جمعیۃ علما بھوپال کے صدر حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ ہمیں فخر ہے کہ مولانا آزاد جیسی عبقری شخصیت کا تعلق ہماری قوم سے تھا۔ مولانا آزاد نے کسی ایک قوم کی رہنمائی نہیں کی بلکہ سبھی ہندستانیوں کی خوشحالی کے لئے ان کا دل دھڑکتا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے ملک کی آزادی اور بطور ملک کے پہلے وزیر تعلیم کے جو خدمات انجام دی ہیں، انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر نظام الدین کہتے ہیں کہ مولانا آزاد ایک ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے۔ انہوں نے نہ صرف ملک کی آزاد ی کے لئے اپنی قربانیاں دیں ہیں بلکہ وہ ایک بہترین انشا پرداز،صحافت کے نقیب اور مفسر قران تھے۔ ہم لوگوں نے مختصر تقریب کے ذریعہ مولانا آزاد کو یاد کیا ہے اور جب حالات بہتر ہوں گے تو انشا اللہ سابقہ روایت کے مطابق بڑی تقریب کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ آج ہم لوگوں نے دعا کرنے کے ساتھ  مولانا آزاد کے نام سے شجرکاری کی ہے اور غریبوں میں کھانا تقسیم کیا ہے۔ جلسہ میں جو لوگ آئے تھے، ان سے مولانا آزاد کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی تلقین کی گئی ہے اور یقین مانئے، جس دن ہندوستان مولانا آزاد کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن ہوگا، پوری دنیا میں ہندوستان کا پرچم لہرائے گا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 23, 2021 01:55 AM IST