اجودھیابم دھماکہ معاملہ: جمعیۃعلماء ہند خصوصی عدالت کے فیصلہ کوالہ آبادہائی کورٹ میں کرے گی چیلنج: مولانا ارشد مدنی

گزشتہ ساڑھےتین سالوں سے جمعیۃ علماء لیگل سیل ملزمین کے مقدمات کی پیروی کررہی تھی اورملزمین کےدفاع میں ایڈوکیٹ شمش الحسن، ایڈوکیٹ ایس صدیقی، ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ فرقان خان ودیگرکومقررکیا گیا تھا۔

Jun 18, 2019 07:00 PM IST | Updated on: Jun 18, 2019 07:02 PM IST
اجودھیابم دھماکہ معاملہ: جمعیۃعلماء ہند خصوصی عدالت کے فیصلہ کوالہ آبادہائی کورٹ میں کرے گی چیلنج: مولانا ارشد مدنی

مولانا سید ارشد مدنی: فائل فوٹو

نئی دہلی: 14 سال کے طویل انتظارکے بعدآج الہ آباد کی ایک خصوصی عدالت نے اجودھیا بم دھماکہ معاملہ میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے پانچ میں سے چارملزمین کوجہاں عمرقید کی سزا دی وہیں ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیاد پرایک ملزم کوتمام الزامات سے باعزت بری کردیا۔ تاہم اس معاملے کی پیروی کرنے والی جمعیۃعلماء ہند نے خصوصی عدالت کے متذکرہ فیصلہ کوالہ آباد ہائی کورٹ میں جلدازجلد چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ سال 2005 میں بابری مسجد - رام جنم بھومی کامپلیکس پررونما ہونے والے دہشت گردانہ حملہ میں متعددلوگ ہلاک ہوئے تھے جس میں تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق جیش محمد نامی ممنوعہ تنظیم کے ارکان بھی شامل تھے۔ حملہ کے بعد تحقیقاتی دستوں نے متذکرہ پانچ ملزمین کوگرفتارکیا تھا اوران کےخلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا۔ اس معاملے میں کل 65 سرکاری گواہوں نے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے لیکن عدالت کے فیصلہ میں تاخیرکے خلاف جمعیۃعلماء ہند نےسپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

Loading...

صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے خصوصی عدالت کے فیصلہ پراپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند اس فیصلہ کوالہ آباد ہائی کورٹ میں جلد ازجلد چیلنج کرے گی انشاء اللہ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق بیشترمعاملہ میں دیکھا گیا ہے کہ نچلی عدالتوں نے کچھ اسی طرح کے فیصلہ دیئے ہیں، لیکن جب ان فیصلوں کواعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا گیا تو فاضل ججوں نے نہ صرف انہیں مسترد کردیا بلکہ زیادہ ترلوگوں کو باعزت رہا کرنے کا فیصلہ بھی صادرکیا۔

عدالتوں پرہمارا اعتماد بہت مضبوط

اس ضمن میں مولانا مدنی نے اکشردھام مندرحملہ مقدمہ کی مثال پیش کی جس میں نچلی عدالت نے تمام ثبوت وشواہد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملزمین کوسخت سزائیں دی تھیں جن میں پھانسی کی بھی سزاشامل تھی اور گجرات ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلہ پرمہرلگا دی تھی، لیکن جب یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچاتو ایجنسیوں اور پولس کوناکامی کا سامنا کرنا پڑااورعدالت نے تمام ملزمین کو باعزت بری کردیا اوربےقصورافراد کوغلط طریقہ سےاس معاملہ میں ماخوذ کرنے پرگجرات پولس کی سخت سرزنش بھی کی۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اسے قانونی نظام کی خامی کہا جائے یا کچھ اورکہ اس معاملہ میں نچلی عدالت کا فیصلہ آنے میں ہی 14 برس لگ گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں پرہمارا اعتماد بہت مضبوط ہے اور ہم بارباریہ بات کہتے آئے ہیں کہ جو کام حکومتوں کوکرنا چاہئے تھا وہ ہمارے ملک کی عدالتیں کررہی ہیں، لیکن اس طرح کے معاملوں میں جس سست رفتاری سے سماعت ہوتی ہے اس سے بے گناہوں کی زندگیاں تباہ وبربادہورہی ہیں، ہمارے لئے یہ بات نہ صرف انتہائی تشویش کا باعث ہے بلکہ اس سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہورہی ہے۔

ساڑھے تین سالوں سے کی جارہی ہے پیروی

ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزاراعظمی نے ممبئی میں اخبارنویسوں کو بتایا کہ خصوصی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج دنیش چند نے آج دو پہر بعد سخت سیکوریٹی بندوبست میں اپنا فیصلہ پڑھ کر سنایا جس کے مطابق چار ملزمین ڈاکٹر محمد عرفان، محمد نسیم،محمد آصف اور شکیل احمد کو تعزیرا ت ہند کی دفعات 302 کے تحت عمر قید کی سزا سنائی ہے جبکہ محمد عزیز محمد بشیر نامی شخص کو ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیاد پر باعزت بری کیئے جانے کے احکامات جاری کئے۔

انہوں نےمزیدبتایا کہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے جمعیۃ علماء لیگل سیل ملزمین کے مقدمات کی پیروی کررہی تھی اور ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ شمش الحسن، ایڈوکیٹ ایس صدیقی، ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ فرقان خان و دیگر کو مقررکیا گیا تھا۔ آج بھی فیصلہ کے وقت متذکرہ وکلاء عدالت میں موجود تھے، جنہوں نےعدالت سے ملزمین کوکم سے کم سزا دینے کی گذارش کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شروعاتی دنوں میں ملزمین نے مقدمہ اپنے طورپرلڑا تھا، لیکن ڈاکٹرعرفان نے جیل سے حضرت مولانا سید ارشد مدنی کےنا م خطوط لکھ کرجمعیۃ علماء سے قانونی امداد طلب کی تھی۔ چنانچہ صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نےملزمین کو قانونی امداد فراہم کیا تھا۔

Loading...