உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مولانا اقبال احمد محمدی کے بڑے بھائی کا انتقال ، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے رنج و غم کا اظہار کیا

    مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی: فائل فوٹو

    مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی: فائل فوٹو

    مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے سرزمین مئو کے ایک مخلص اور محب جماعت وملت اور مشہور تاجر و معروف عالم دین مولانا اقبال احمد محمدی کے بڑے بھائی جناب عبدالرحمن کے سانحہ ارتحال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

    • Share this:
      مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے سرزمین مئو کے ایک مخلص اور محب جماعت وملت اور مشہور تاجر و معروف عالم دین مولانا اقبال احمد محمدی کے بڑے بھائی جناب عبدالرحمن کے سانحہ ارتحال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بھائی عبدالرحمن جن کا آج شب ڈھائی بجے طویل علالت کے بعد بعمر تقریبا 65 سال آبائی وطن مئوناتھ بھنجن یوپی میں انتقال ہوگیا، وہ دینی وسماجی کاموں سے بڑی دلچسپی رکھتے تھے۔ جماعتی غیر ت سے سرشار تھے۔ جمعیت و جماعت کے کاز سے کافی لگائو تھا۔ علم و علماء نواز تھے۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے ، دینی اجتماعات اور پروگراموں کو یہی نہیں کہ پسند کرتے تھے اور اس میں بڑھ چڑھ کر کے حصہ لیتے تھے بلکہ اپنی اولاد کی بھی ایسی تعلیم و تربیت کی تھی کہ وہ اسی طرح کے دینی اور جماعتی کاموں میں لگے رہنے کو اپنا اہم مشغلہ سمجھتے ہیں۔ خاص طور پر علماء سے ملنے اور ان کی خدمت اور ان سے لگائوو محبت رکھنے میں بہت دلچسپی رکھتے تھے۔ مئو کی سرزمین اپنی مردم خیزی کے ساتھ طلباء اور علم نواز بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کثیر تعداد میں بڑے بڑے مدارس اور جامعات پائے جاتے ہیں جو بحسن و خوبی نونہالانِ ملک و ملت کو زیور تعلیم وتربیت سے مزین فرماتے ہیں اور ان کی قدر دانی کرتے ہیں۔
      مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے مزید کہا کہ بھائی عبدالرحمن سے میرا تعلق تقریباً تیس سالوں سے رہا اور وہ للہ فی اللہ ہم سے محبت فرماتے تھے۔ ان کے والد محترم جناب محمد مئو کی معروف شخصیت اور حیثیت کے مالک تھے۔ علماء اور مدارس خصوصاً جامعہ اسلامیہ فیض سے گہرے تعلق رکھتے تھے اور اس کے خصوصی معاون اور ممبر بھی تھے۔بڑے بھائی عبدالرحمن اس دینی اور تعلیمی تعلق کا پاس و لحاظ رکھتے تھے۔
      مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے مزید کہا کہ جن دنوں میں ام الجامعات جامعہ سلفیہ بنارس میں درس و تدریس کے فریضہ کی ادائیگی میں مشغول تھا ، ان دنوں میں بھی ہماری ادنیٰ خواہش و طلب پر بہت سے طلباء کے داخلے اور ان کے مختلف امور کی انجام دہی کے لیے مشغول و منہمک ہوجاتے تھے کیوںکہ ان کے تعلقات مئو کے جماعتی اداروں کے علاوہ غیر جماعتی اشخاص ، شخصیات اور افراد سے بھی اچھے اور مضبوط تھے۔
      First published: