ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

مغربی بنگال: فساد میں اپنے بیٹےکوکھو چکے مولانا امداد الرشیدی نے جب کی تھی امن کی اپیل

مغربی بنگال کےآسنسول مسجد کے امام مولانا امدادالرشیدی نے اپنے جواں سال بیٹےکی فساد میں ہوئی موت کے بعد بھی بدلےکی آگ کو بھڑکنے نہیں دیا تھا، جس نے بھی اس واقعہ کو سنا، وہ دنگ رہ گیا۔ مولانا امدادالرشیدی کے ہمت و حوصلے کو ہر طبقے کے لوگوں نے سراہا تھا۔

  • Share this:
مغربی بنگال: فساد میں اپنے بیٹےکوکھو چکے مولانا امداد الرشیدی نے جب کی تھی امن کی اپیل
مغربی بنگال: فساد میں اپنے بیٹےکوکھو چکے مولانا امداد اللہ الرشیدی نے جب کی تھی امن کی اپیل

کولکاتا: جنگ و فساد کسی مسلئے کا حل نہیں ہے۔ فسادات نے نسلوں اور ممالک کو تباہ کیا ہے، جبکہ محبت سے ہاری جنگ بھی جیتی جاسکتی ہے۔ بنگال کے مولانا امداد الرشیدی نے محبت و انسانیت کی ایسی ہی مثال پیش کی تھی۔ آسنسول مسجد کے امام مولانا امدادالرشیدی نے اپنے جواں سال بیٹے کی فساد میں ہوئی موت کے بعد بھی بدلےکی آگ کو بھڑکنے نہیں دیا تھا، جس نے بھی اس واقعہ کو سنا، وہ دنگ رہ گیا۔ مولانا امداد الرشیدی کے ہمت و حوصلے کو ہر طبقے کے لوگوں نے سراہا تھا۔ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے بھی مولانا کے گھر پہنچ کر ان کے ہمت و حوصلے کو سلام کیا تھا۔ گزشتہ سال درگا پوجا کے موقع پر مولانا رشیدی کے امن کے پیغام کو پوجا پنڈال تھیم کا حصہ بنایا گیا اور مولانا کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کی گئی۔ آج اس حادثے کو دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ بنگال حکومت نے بھی آگے آتے ہوئے مولانا امدادالرشیدی کے گھرکے ایک فرد کو سرکاری نوکری فراہم کی ہے۔


وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مولانا امدادالرشیدی کی مدد کرتے ہوئے ان کے بیٹے کو محکمہ ہیلتھ میں سرکاری نوکری فراہم کی ہے۔
وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مولانا امدادالرشیدی کی مدد کرتے ہوئے ان کے بیٹے کو محکمہ ہیلتھ میں سرکاری نوکری فراہم کی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ اس حادثے کو دوسال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ 2018 میں رام نومی کے موقع پر بنگال کے آسنسول میں فساد پھوٹ پڑا تھا۔ فساد میں مولانا رشیدی کے 16 سال کے بیٹے جو گھر سے ٹیوشن کے لئے نکلا تھا وہ بھی تشدد کا نشانہ بنا دو دنوں تک لاپتہ رہنے کے بعد مولانا امدادالرشیدی کے بیٹے کی لاش نالے سے ملی تھی۔ بیٹے کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے مولانا رشیدی پھوٹ پھوٹ کر روپڑے تھے، لیکن انہوں نے اسی حال میں آنکھوں میں آنسو لئے لوگوں سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کی موت کا کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا، اگر بدلہ ليا گیا تو وہ اور ان کا خاندان شہر چھوڑ دیں گے۔


مولانا امداد الرشیدی کی اپیل پر سب لوگوں کی آنکھیں اشکبار ہوگئی اور فساد زدہ آسنسول میں دونوں فرقے کے لوگوں نے آگے آتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا اور اس طرح اس علاقے میں امن کی بحالی ہوئی۔ آج تک یہاں کسی طرح کا کوئی تشدد نہیں ہوا۔ مولانا کے ہمت و حوصلے نے نفرت آمیز ماحول میں محبت و امن کا پرچم بلند کیا۔ بی جے پی ایم پی بابل سپریو نے بھی مولانا امداد اللہ الرشیدی کو فون کرکے ان کی کوششوں کو سراہا تھا۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مولانا امدادالرشیدی کی مدد کرتے ہوئے ان کے بیٹے کو محکمہ ہیلتھ میں سرکاری نوکری فراہم کی ہے۔ مولانا نے حکومت کے فیصلے کو اہم بتایا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 28, 2020 05:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading