مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا کیا خیر مقدم ، کہا: نہ ہو کوئی سیاسی مداخلت

مولانا خالد رشید فرنگی محل نے کہا کہ بات چیت کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونا سب سے اچھی بات ہے ۔

Mar 08, 2019 03:05 PM IST | Updated on: Mar 08, 2019 03:05 PM IST
مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا کیا خیر مقدم ، کہا: نہ ہو کوئی سیاسی مداخلت

خالد رشید فرنگی محلی ۔ فائل فوٹو ۔

سپریم کورٹ نے اجودھیا تنازع میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے مصالحت کا حکم دیا ہے ۔ سپریم کورت نے اس کیلئے ایک تین رکنی ثالثی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے ۔ سپریم کورٹ کے اس حکم پر رد عمل بھی سامنے آنے لگے ہیں ۔ مولانا خالد رشید فرنگی محل نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔

مولانا خالد رشید فرنگی محل نے کہا کہ بات چیت کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونا سب سے اچھی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں سیاسی مداخلت نہ ہو تو ضرور کوئی حل نکل سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا ہر باشندہ چاہتا ہے کہ اس تنازع کا حل نکلے ۔

خیال رہے کہ ثالثی کمیٹی میں تین اراکین کو شامل کیا گیا ہے ۔ ثالثی کمیٹی کے اراکین میں شری شری روی شنکر کے ساتھ شری رام پنچو کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ اس کمیٹی کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس ایف ایم کلیف اللہ کریں گے ۔ ثالثی کمیٹی کی میٹنگ اگلے ہفتہ فیض آباد میں ہوگی ، جس کے بعد 8 ہفتوں میں صلح کی رپورٹ سپریم کورٹ کو سونپی جائے گی ۔

Loading...

یہ بھی پڑھیں : اجودھیا تنازع : ظفریاب جیلانی نے کہا : ہم مصالحت کےعمل میں کریں گے پورا تعاون

 

Loading...