உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    رام نومی پر تشدد: مولانا محمود مدنی نے وزیر داخلہ Amit Shah کو لکھا خط، کیا یہ بڑا مطالبہ

    مولانا محمود مدنی

    مولانا محمود مدنی

    رام نومی تہوار کے موقع پر ملک کی کئی ریاستوں بالخصوص مدھیہ پردیش کے کھرگون میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد اور اس کے بعد سرکار وانتظامیہ کی طرف سے ملزمین کے مکانوں اور دوکانوں کے انہدام پر جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود اسعد مدنی سخت بے چینی واضطراب کا اظہار کیا ہے۔

    • Share this:
    نئی دہلی: رام نومی تہوار کے موقع پر ملک کی کئی ریاستوں بالخصوص مدھیہ پردیش کے کھرگون میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد اور اس کے بعد سرکار وانتظامیہ کی طرف سے ملزمین کے مکانوں اور دوکانوں کے انہدام پر جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود اسعد مدنی سخت بے چینی واضطراب کا اظہار کیا ہے۔ مولانا محمود مدنی نے اس پر تشویش کا اظہارکیا کہ فسادیوں نے ملک میں عادت بنالی ہے کہ وہ مسلم محلوں میں جاکر منافرت پر مبنی نعرے لگاتے ہیں۔ وہاں انتہائی اشتعال انگیز حرکتیں کرتے ہیں اور مسجدوں وعبادت گاہوں کی توہین کرتے ہیں، انھیں اس سلسلے میں لاء اینڈآرڈر کی طرف سے کوئی رکاوٹ اور دقت بھی نہیں ہے۔

    مولانا محمود مدنی نے اس سلسلے میں ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر متوجہ کیا ہے کہ وہ ایسے بے قابو ہو رہے حالات پر قدغن لگائیں اور ملک کو انارکی کی راہ پر لگاتار چلنے سے روکیں۔ مولانا مدنی نےخاص طور سے مدھیہ پردیش کے کھرگون میں ہوئے سانحہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ یہاں اقلیتی طبقے کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سماج دشمن عناصر کی جانب سے متعدد گھروں اور مذہبی مقامات کو نذر آتش کیا گیا اور لوٹ مار کی گئی۔ یہ دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے کہ تشدد کے پھیلنے کے بعد اب مقامی انتظامیہ اقلیتی برادری کو ہراساں کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ نشان زد طریقے سے مسلمانوں کی املاک اور ان کی رہائش گاہوں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔

    مولانا محمود مدنی نے اس سلسلے میں ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر متوجہ کیا ہے کہ وہ ایسے بے قابو ہو رہے حالات پر قدغن لگائیں اور ملک کو انارکی کی راہ پر لگاتار چلنے سے روکیں۔
    مولانا محمود مدنی نے اس سلسلے میں ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر متوجہ کیا ہے کہ وہ ایسے بے قابو ہو رہے حالات پر قدغن لگائیں اور ملک کو انارکی کی راہ پر لگاتار چلنے سے روکیں۔


    مولانا مدنی نے سوال اٹھایا کہ ایسا کس قانون کے تحت کیا جارہا ہے؟ جبکہ آئین ہند کی بنیادی دفعہ21 کے تحت، ہر ملزم کو منصفانہ ٹرائل، ضمانت، فوجداری وکیل کی خدمات، مفت قانونی امداد حاصل کرنے کا حق ہے، نیز یہ ہندوستان میں عدالتوں کے ذریعہ اختیار کردہ عمومی قانونی اصول ہے کہ جب تک کوئی ملزم مجرم ثابت نہ ہو جائے، اس کے ساتھ بے قصوروں کی طرح ہی معاملہ کیا جائے گا۔ تاہم اب ایم پی حکومت مکانات گراکر آئین ہند کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فاشزم پرمبنی عمل کو انجام دے رہی ہے اوربڑی بے شرمی سے اس کا دفاع کررہی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    Nawab Malik کی عرضی پر سپریم کورٹ میں ہوگی سماعت، ای ڈی کی حراست سے رہائی کا مطالبہ
    مولانا مدنی نے وزیر داخلہ سے شکایت کی کہ جمعیۃ علماء کی مقامی یونٹ کے ذریعہ حاصل کردہ رپورٹ کے مطابق، مقامی پولیس کی ٹیم اقلیتی برادری میں خوف کی نفسیات پیدا کر رہی ہے۔ یہ سب دیکھ کر ملک میں ہر طرف اقلیتی برادری میں ناانصافی کا گہرا احساس پایا جاتا ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کھرگون تشدد کی سچائی کو سامنے لانے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقاتی کمیٹی تشلیل دیں، نیز ان تمام لوگوں کے خلاف مقدمہ چلایا جائے، جنہوں نے جلوس کے دوران تشدد کو ہوا دی، جس کی وجہ سے یہ پورا واقعہ ہوا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے امتیازی سلوک کا نوٹس لیتے ہوئے جائیدادوں کی مسماری کو فوری طور پر روکا جائے۔

    دوسری طرف جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی مسلسل گھرگون کے اعلی افسران سے رابطے میں ہیں، نیز جمعیۃ علماء گھرگون کے ذمہ داران مفتی رفیق اور حافظ ادریس سے رپورٹ لے رہے ہیں اور ہر ممکن اقدم کے ذریعہ امن و امان کے لئے کوشاں ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: