ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مولانا محمود مدنی نے کہا-مرکز نظام الدین معاملےکو مذہبی رنگ دینا قابل مذمت

جمعیۃ علماء ہند کےجنر ل سکریٹری نےذمہ دار اور باشعور افراد اور میڈیا سے یہ اپیل کی کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور مسلمانوں کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ کرنے والوں کوروکیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 03, 2020 01:48 AM IST
  • Share this:
مولانا محمود مدنی نے کہا-مرکز نظام الدین معاملےکو مذہبی رنگ دینا قابل مذمت
جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی- فائل فوٹو

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کےجنر ل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے مرکز نظام الدین (دہلی) کے تعلق سے منفی پروپیگنڈہ اور کرونا وائرس جیسی ہلاکت خیز بیماری سے جڑے معاملےکو مذہبی رنگ دینے پر افسوس کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے یہ بات جاری ایک بیان میں کہی ہے۔ انہوں نےکہا کہ ایسے وقت میں جبکہ پوری دنیا اور خاص طور سے ہمارا وطن اس مصیبت سے نبرد آزما ہے، ہمیں زیادہ حساس اور ذمہ دار انسان کے طور پرخود کو پیش کرنا چاہئے اور متاثر شخص چاہے کسی بھی ذات اور قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو، اس کے ساتھ بلا تفریق کھڑا ہونا چاہئے، لیکن صد افسوس کہ جب ایسے حالات کے شکار افراد مرکز نظام الدین سے وابستہ پائےگئے تو اسے چند میڈیا ہاؤس اور کچھ غیر ذمہ دارعناصر نے مذہبی شدت پسندی سے جوڑنے اور ایک مخصوص قوم کو مورد الزام اور مجرم ٹھہرانے کی کوشش شروع کردی۔حالاں کہ وہاں سے جو کچھ باتیں آرہی ہیں، اس کی ذمہ داری کسی ایک پر عائد نہیں جاسکتی، بلکہ پولس انتظامیہ بھی یکساں طور سے جوابدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ واضح بات یہ ہےکہ ملک میں لاک ڈاؤن اچانک کیا گیا، جس کی وجہ سے ایسےحالات ہوئےکہ جو جہاں تھا، اسے وہیں ٹھہرنا پڑا، نکلنے کی راہیں بند ہوگئیں، ایسے میں وہاں سے لوگوں کو نکالنے کی ذمہ داری دہلی سرکار اور پولس انتظامیہ پر تھی، کیونکہ اس کےبغیر لوگوں کا نکلنا ممکن نہیں تھا۔لیکن پولس انتظامیہ نے غفلت شعاری کا ثبوت دیتے ہوئے وہی کام جو اسے ایک ہفتہ پہلے کرنا چاہیے تھا، اس میں تاخیر کی جس کے نتائج یہاں تک پہنچے۔ اس لئے یہ سوال کیا جانا چاہئے کہ جو کوشش 28 مارچ کی شام شروع ہوئی وہ پہلے کیوں نہیں کی گئی؟


نظام الدین واقع تبلیغی جماعت کا مرکز عالمی شہرت یافتہ مرکز ہے۔
نظام الدین واقع تبلیغی جماعت کا مرکز عالمی شہرت یافتہ مرکز ہے۔



مولانا محمود مدنی نےکہا کہ جمعیۃ علماء ہند ایسے حالات میں اہل وطن، ذمہ دار اور باشعور افراد اور میڈیا سے یہ دردمندانہ اپیل کرتی ہےکہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور مسلمانوں کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ کرنے والوں کوروکیں۔ بلاشبہ یہ انسانیت سے وابستہ مسئلہ ہے، جس میں کسی بھی طرح کی عصبیت اور ایک دوسرے پر الزام دھرنےکے بجائے متفقہ طور سے ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور ساتھ دینےکی ضرورت ہے اور یہی اس ملک کی عظیم روایت بھی رہی ہے۔ اگر ایسے وقت میں فرقہ پرستی یا سیاسی و مذہبی منافرت کو ہوادی گئی اس سے بڑاگناہ نہیں ہوگا۔ انھوں نےکہا کہ نظام الدین کے واقعہ کے بعد پورے ملک میں اس سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی کی ضرورت ہے نہ کہ ان کو مجرم بناکر پیش کرنےکی، کیونکہ اس سے اس مصیبت کے خلاف ہماری قومی جدوجہد متاثرہوگی۔
First published: Apr 03, 2020 01:41 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading