بابری مسجد ملکیت مقدمہ: ہمیں مصالحتی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظارکرناچاہئے: مولانا سید ارشد مدنی

صدرجمعیۃ علماء ہند نےکہا کہ اگرکوئی تنازعہ یا مسئلہ بات چیت اورباہمی صلح سےحل ہوجائے تواس سے بہترکچھ ہوہی نہیں سکتا۔

Jul 18, 2019 07:08 PM IST | Updated on: Jul 18, 2019 07:08 PM IST
بابری مسجد ملکیت مقدمہ: ہمیں مصالحتی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظارکرناچاہئے: مولانا سید ارشد مدنی

مولانا سید ارشد مدنی نےکہا ہے کہ ہمیں مصالحتی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کرناچاہئے۔

نئی دہلی: بابری مسجد ملکیت تنازعہ معاملے کی آج سپریم کورٹ آف انڈیا  میں سماعت عمل میں آئی۔ اس پیش رفت پراپنے ردّعمل کا اظہارکرتے ہوئےصدرجمعیۃ علماء ہند مولانا سیّد ارشد مدنی نےکہا کہ اگرکوئی تنازعہ یا مسئلہ بات چیت اور باہمی صلح سے حل ہوجائے تو اس سے بہترکچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ ساتھ ہی بات چیت یا فیصلہ آستھا کی بنیاد پرنہیں بلکہ ثبوت وشواہد کی بنیاد پرہونا چاہئے۔ انہوں نےسپریم کورٹ کےایک سابقہ تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ عدالت ابتداء ہی میں واضح کرچکی ہے کہ یہ آستھا کا نہیں بلکہ ملکیت کا معاملہ ہے۔

مولانا سید ارشد مدنی نےمزید کہا کہ کیونکہ مصالحتی کمیٹی نے بند لفافے میں رازدارانہ رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کی ہے، جس پرچیف جسٹس نےکمیٹی کومزید 13 دن کی مہلت دی ہے، اس لئے ہمیں حتمی رپورٹ کا انتظارکرنا چاہئے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ہم نےمصالحتی عمل میں حصہ لیا تھا، لہٰذا ہم رپورٹ کا انتظار کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ دو  اگست کو اس معاملے کی اہم سماعت سپریم کورٹ میں ہوگی، جس کے دوران یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ آیا مصالحت ہوئی یا نہیں، اس کے بعد عدالت حتمی بحث کے لئے احکامات جاری کرسکتی ہے۔ ہمارے وکلاء مصالحتی عمل سے قبل بھی اپنی بحث کے لئے تیارتھےاورآج بھی تیارہیں۔

Loading...

صدرجمعیۃ علماء ہند نےکہا کہ جس طرح 6 دسمبر1992 کوایک تاریخی مسجد کودن دہاڑے مرکزاور صوبائی حکومت کےسامنےشہید کرکےملبہ کا ڈھیربنادیا گیا۔ اس سے ملک کے ان کروڑوں لوگوں کا اعتماد مجروح ہوا ہے، جوانصاف پسند ہیں اورملک کےآئین وجمہوریت میں یقین رکھتے ہیں۔ چنانچہ اب انصاف کےذریعہ ہی ان کےمجروح ہوئےاعتماد کوبحال کیا جاسکتا ہے۔ مولانا مدنی نے ایک بارپھرزوردے کرکہا کہ ہم حقائق کی بنیاد پراس معاملہ میں فیصلہ چاہتے ہیں عقائد اورآستھا کی بنیادپرنہیں اورعدالتیں ثبوت وشواہد اورحقائق کی بنیاد پر ہی فیصلہ کرتی ہیں عقائد کی بنیاد پرنہیں۔

واضح رہےکہ بابری مسجد ملکیت تنازعہ معاملے کی آج سپریم کورٹ آف انڈیا  میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی نے مصالحتی کمیٹی کی جانب سےارسال کیا گیا بند لفافہ کھولا اوراس کا مطالعہ کرنےکےبعد آرڈرپاس کیا کہ 31 جولائی تک مصالحتی کمیٹی اپنی مکمل رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کردے گی۔ اس کے بعد 2 اگست کودوپہردوبجےعدالت اس معاملے کی سماعت کرکےاگلا لائحہ عمل تیار کرے گی، اگرفریقین کے درمیان کسی طرح کی مصالحت نہیں ہوتی ہے، توسپریم کورٹ 2 اگست کواس معاملے کی حتمی سماعت کے لئے شیڈول طےکرسکتی ہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والی پانچ رکنی بینچ جس میں جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اورجسٹس عبدالنظیرشامل ہیں، نےآج مصالحتی کمیٹی کی جانب سےبھیجی گئی رازدارانہ رپورٹ کا مطالعہ کیا اورآپس میں صلاح ومشورہ کرنےکےبعد آرڈرپاس کیا کہ مصالحتی کمیٹی کو 31 جولائی تک رپورٹ عدالت میں پیش کرنا ہوگی، جس کےبعد 2 اگست کو آئینی بینچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔

Loading...