உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امیرشریعت کی مسلمانوں سے بڑی اپیل، رمضان اورعیدکی خریداری کےلئےکسی بھی قیمت پر نہ جائیں بازار

    امارت شرعیہ کی اپیل- رمضان اورعیدکی خریداری کےلئےکسی بھی قیمت پر نہ جائیں بازار

    امارت شرعیہ کی اپیل- رمضان اورعیدکی خریداری کےلئےکسی بھی قیمت پر نہ جائیں بازار

    مولانا ولی رحمانی نےکہا کی بازارجانے سے ایک تو اس وبا کو روکنےکی کوشش میں خلل واقع ہوگا اور دوسرا اگرکورونا اس کے بعد بھی پھیلےگا تو میڈیا اس کا پورا ذمہ دار مسلمانوں کو قرار دے گا۔

    • Share this:
    پٹنہ: بہار کے پٹنہ میں عیدکے موقع پر ایک سو کروڑ کا کاروبار صرف رمضان کے ایک مہینہ میں ہوجاتا ہے، لیکن اس بار پٹنہ کے بازاروں میں یہ نظارہ دکھائی نہیں دےگا۔ ایک تو لاک ڈاون کے احترام میں لوگ پوری طرح سے اپنےگھر میں ہیں۔ ساتھ ہی اس خطرناک وبا کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں نے عیدکی خریداری نہیں کرنےکا اعلان کیا ہے۔

    امارت شرعیہ بہارکے امیر شریعت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کےجنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی کےمطابق رمضان اور عید کی خریداری کےلئے مسلمانوں کو بازارجانےکی ضرورت نہیں ہے۔ مولانا ولی رحمانی نےکہا کی بازارجانے سے ایک تو اس وبا کو روکنےکی کوشش میں خلل واقع ہوگا اور دوسرا اگرکورونا اس کے بعد بھی پھیلےگا تو میڈیا اس کا پورا ذمہ دار مسلمانوں کو قرار دے گا۔ مولانا ولی رحمانی نےکہا کہ کورونا کو مسلمانوں سےجوڑا گیا، جو ایک شرمناک پہلو ہے۔

    مولانا محمد ولی رحمانی کےمطابق رمضان اور عید کی خریداری کےلئے مسلمانوں کو بازارجانےکی ضرورت نہیں ہے۔

    مولانا ولی رحمانی نے مسلمانوں سے اپیل کیا ہےکہ وہ رمضان میں گھروں میں رہیں، قرآن اور نماز پڑھیں، بازار بالکل نہیں جائیں۔ بازاروں میں اور دکانوں پر بھیڑ لگانا کسی بھی حالت میں درست نہیں ہے۔ ہمیں ایسا کام نہیں کرنا چاہئے، جس کے سبب کسی طرح کی کوئی غلط فہمی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا میں کمی واقع ہوئی ہے، لیکن اس مرض پر اب بھی قابو نہیں پایا گیا ہے۔ اس لئے اس بات پرسنجیدہ ہونےکی ضرورت ہے۔ امارت شرعیہ کے امیر شریعت مولانا ولی رحمانی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہےکہ وہ پرانےکپڑوں میں ہی اس بار عید کی نماز ادا کریں۔ مولانا ولی رحمانی کے مطابق بازار میں جانے سے زیادہ بہتر ہے کہ پرانے کپڑے پہن کر ہی گھر کے تمام افراد نماز پڑھیں اور دعا کریں کہ یہ وبا جلد ختم ہو جائے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: