کیوں دہلی سے پہلےمدھیہ پردیش کےلئےاہم ہوگئی ہیں مایاوتی؟

سونیا گاندھی نے این ڈی اے مخالف جماعتوں سے رابطہ کرنے اورحکمت عملی بنانے کولے کربحث کرنے کے لئے میٹنگ کی ذمہ داری مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ کے علاوہ پی چدمبرم کودی تھی۔ حالانکہ کمل ناتھ مایاوتی کولانے میں ناکام رہے۔

May 20, 2019 05:31 PM IST | Updated on: May 20, 2019 05:47 PM IST
کیوں دہلی سے پہلےمدھیہ پردیش کےلئےاہم ہوگئی ہیں مایاوتی؟

بی ایس پی سربراہ مایاوتی: فائل فوٹو

لوک سبھا الیکشن 2019 کے لئے آئے ایگزٹ پول کے نتائج میں این ڈی اے کوملی سبقت کے بعد کانگریس اوردیگراپوزیشن جماعتوں نے فیڈرل فرنٹ کولے کربات چیت شروع کردی ہے۔ این ڈی اے کے خلاف بن رہےاس فیڈرل فرنٹ کےلئےمایاوتی کافی ضروری تصورکی جارہی ہیں۔ حالانکہ 23 کودہلی کی کرسی کے نتیجے آنےسے پہلے مدھیہ پردیش کے لئے مایاوتی کافی اہم ہوگئی ہیں۔

مدھیہ پردیش میں اپوزیشن لیڈراوربی جے پی لیڈرگوپال بھارگونےگورنرکوخط لکھ کرسیشن بلانےکا مطالبہ کیا ہے۔ بھارگونےکہا ہے کہ جس طرح سے مرکزاورریاست میں بی جے پی کوزبردست عوامی حمایت مل رہی ہے، اس سےکئی کانگریس ممبران بھی اپنا من بدل رہے ہیں۔ بھارگوکا دعویٰ ہےکہ یہ ممبران اسمبلی کمل ناتھ حکومت سے پریشان ہوچکے ہیں اور بی جے پی کے ساتھ آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ بی جے پی خرید وفروخت نہیں کرے گی، لیکن کانگریس کے ہی ممبران اسمبلی اب ان کی حکومت کے ساتھ نہیں ہیں۔ بی جے پی نے سیشن کےدوران کانگریس سےاکثریت ثابت کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔

Loading...

مایاوتی کیوں ہوئیں اہم؟

سال 2018 کے اسمبلی انتخابات میں کل 230 سیٹوں میں سے کانگریس کو114 سیٹیں ملی تھیں اوروہ اکثریت کےکرشمائی اعدادوشمار116 سے دو قدم دورہوگئی تھی۔ بی جے پی کو109 سیٹیں ملی تھیں اوروہ اکثریت سے 7 سیٹیں دورتھی۔ اس الیکشن میں بی ایس پی کو دواورسماجوادی پارٹی کوایک جبکہ آزاد کو4 سیٹیں ملی تھیں۔ سماجوادی پارٹی - بہوجن سماج پارٹی نے پہلے ہی کانگریس کی حمایت کا اعلان کردیا تھا اورآزاد امیدواربھی بعد میں اسی کےساتھ آگئےتھے۔

بی جے پی کے پاس مدھیہ پردیش میں حکومت بنانےکے دوراستے ہیں۔ پہلا کہ بی ایس پی - سماجوادی پارٹی اورآزاد امیدوارملاکرکل 7 ممبران اسمبلی انہیں حمایت دے دیں۔ دوسرا کہ کانگریس کے کچھ ممبران اسمبلی اورآزاد یا پھربی ایس پی کے دو ممبران ان کے ساتھ آجائیں۔ ایسے میں مایاوتی کانگریس کےلئےصرف مرکزمیں ہی نہیں مدھیہ پردیش میں بھی کافی اہم ہوگئی ہیں۔ 116 کے لئےآزاد ممبران اسمبلی سے زیادہ کانگریس بی ایس پی پر منحصرہے، کیونکہ سماجوادی پارٹی کا ایک ایم ایل اے بھی اسی وجہ سےان کے ساتھ ہے۔

مایاوتی کے انکارسے اٹھے سوال

واضح رہے کہ ایگزٹ پول میں این ڈی اے کواکثریت ملنے کے اشارے کے بعد سونیا گاندھی نے 23 مئی کو دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ بلائی ہے۔ سونیا گاندھی نے این ڈی اے مخالف جماعتوں سے رابطہ کرنے اورحکمت عملی بنانے کولے کرتبادلہ خیال کرنے کے لئے اس میٹنگ کی ذمہ داری مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ کے علاوہ پی چدمبرم کو دی تھی۔ بتایا جارہا ہے کہ کمل ناتھ نے بی ایس پی سربراہ مایاوتی سے اس معاملے میں رابطہ کیا تھا، لیکن کوئی جواب نہیں مل پایا۔

دوسری جانب مایاوتی نے اتوارکی دیرشام اس طرح کی کسی بھی میٹنگ میں شامل ہونے سے واضح طورپرانکارکردیا ہے۔ مایاوتی کا یہ انکارمدھیہ پردیش پربھی نافذ ہوا توکانگریس کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ حالانکہ ابھی تک اس کے لئے تصویریں بہت صاف نہیں ہیں، لیکن یہ مانا جارہا ہے کہ  23 مئی کے نتائج سے قبل مایاوتی اس پرکوئی دوسرا فیصلہ نہیں کرنے والی ہیں۔

کیا ہے حکومت بنانے کا فارمولہ

آپ کو بتادیں کہ حکومت بنانے کے بعد ہی سماجوادی پارٹی اوربہوجن سماج پارٹی کے ممبران اسمبلی  کانگریس سےناراض نظرآرہے تھے، باربارکمل ناتھ نے ان سے بات چیت کی تھی، لیکن اس کا کوئی فائدہ نظرنہیں آیا۔ اسی دوران بی جے پی کے بڑے لیڈربھی آئے دن کمل ناتھ حکومت کوگرانے کا دعویٰ کرتے نظرآرہے تھے۔  کیلاش وجے ورگیہ نے لوک سبھا الیکشن سے قبل تویہاں تک کہہ دیا تھا کہ جس دن اوپرسے حکم ہوگا، اسی دن حکومت گرادیں گے۔ ایسے میں بی جے پی کے اس اعتماد کے پیچھے اگرکانگریس کے باغی سمیت بہن جی کے ممبران اسمبلی بھی ہوئے توکمل ناتھ حکومت مشکل میں پڑسکتی ہے۔

 

Loading...