உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ماہی گیر کے قتل پر ہندوستان سخت ، پاکستانی سفارت کار کو طلب کرکے کہی یہ بڑی بات

    ماہی گیر کے قتل پر ہندوستان سخت ، پاکستانی سفارت کار کو طلب کرکے کہی یہ بڑی بات ۔ علامتی تصویر ۔ پی ٹی آئی ۔

    ماہی گیر کے قتل پر ہندوستان سخت ، پاکستانی سفارت کار کو طلب کرکے کہی یہ بڑی بات ۔ علامتی تصویر ۔ پی ٹی آئی ۔

    Indian Fisherman Murder case : ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک سینئر سفارت کار کو آج وزارت خارجہ نے طلب کیا اور پاکستان کی جانب سے ہندوستانی ماہی گیروں پر گولہ باری کے واقعہ پر شدید احتجاج درج کرایا ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : ہندوستان نے پیر کو پاکستان ہائی کمیشن کے ایک سینئر سفارت کار کو طلب کیا اور پاکستان کے ذریعہ کی گئی ایک معصوم ہندوستانی ماہی گیر کے قتل پر شدید احتجاج درج کرایا ۔ سرکاری ذرائع نے اس کی جانکاری دی ۔ پاکستان مریٹائم سیکورٹی ایجنسی نے ہفتہ کو بحیرہ عرب میں مچھلی پکڑنے والی ایک ہندوستانی کشی پر گولہ باری کی ، جس میں ایک ہندوستانی شہری کی موت ہوگئی جبکہ ایک دیگر زخمی ہوگیا ۔

      ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک سینئر سفارت کار کو آج وزارت خارجہ نے طلب کیا اور پاکستان کی جانب سے ہندوستانی ماہی گیروں پر گولہ باری کے واقعہ پر شدید احتجاج درج کرایا ۔ انہوں ںے کہا کہ ہندوستانی سرکار نے مچھلی پکڑنے والی ہندوستانی کشتی پر گولہ باری کرنے کیلئے پاکستانی ایجنسی کی اس کارروائی کی مذمت کی ۔

      ذرائع نے بتایا کہ اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان میں افسران ماہی گیروں کے معاملہ کو انسانی اور گزربسر کے معاملہ کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ پاکستانی سرکار کو بھی اس واقعہ کی جانچ کرنے اور اپنے سیکورٹی اہلکاروں کو بلاوجہ گولی باری کے ایسے عمل سے بچنے کی ہدایت دینے کیلئے کہا گیا ہے ۔

      اس درمیان خبر آئی ہے کہ گجرات پولیس نے ساحلی علاقوں میں ہوئی گولہ باری کے واقعہ میں ہندوستانی ماہی گیر کی موت کے سلسلے میں پاکستان مریٹائم سیکورٹی ایجنسی کے 10 اہلکاروں کے خلاف قتل اور قتل کی کوشش کے الزام میں کیس درج کیا ہے ۔ پولیس کے ایک افسر نے پیر کو یہ جانکاری دی ۔ گجرات کے ساحلی علاقہ میں پی ایم ایس اے کے اہلکاروں نے مچھلی پکڑنے والی ایک کشتی پر ہفتہ کو گولی چلادی تھی ، جس میں ایک کی موت ہوگئی اور دیگر ایک زخمی ہوگیا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: