ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یوپی:چھوٹےشہروں اوردیہات میں میڈیکل سسٹم رام بھروسے،بنیادی طبی امداد بھی دستیاب نہیں:الہ آباد ہائی کورٹ

الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court ) کا کہنا ہے کہ اترپردیش کے دیہاتوں اور چھوٹے شہروں میں پورا طبی نظام ٹھپ پڑچکا ہے اور وہ رام کے بھروسے پر چل رہا ہے۔

  • Share this:
یوپی:چھوٹےشہروں اوردیہات میں میڈیکل سسٹم رام بھروسے،بنیادی طبی امداد بھی دستیاب نہیں:الہ آباد ہائی کورٹ
الہ آباد ہائی کورٹ کی فائل فوٹو

الہ آباد ہائی کورٹ نے اترپردیش میں کورونا وائرس پھیلنے اور قرنطینہ مراکز کی حالت پر ایک پی آئی ایل کی سماعت کے دوران ریاستی حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court ) کا کہنا ہے کہ اترپردیش کے دیہاتوں اور چھوٹے شہروں میں پورا طبی نظام ٹھپ پڑچکا ہے اور وہ رام کے بھروسے پر چل رہا ہے۔جسٹس سدھارتھ ورما (Justices Siddharth Verma) اور اجیت کمار (Ajit Kumar) پر مشتمل ہائی کورٹ بنچ نے یہ مشاہدہ سنتوش کمار (64) کی موت کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے کیا، جسے میرٹھ کے ایک اسپتال میں الگ تھلگ وارڈ میں داخل کیا گیا تھا۔ایک تحقیقات کی رپورٹ کے مطابق وہاں کے ڈاکٹر اس کی شناخت کرنے میں ناکام رہے اور لاش کو بغیر شناخت کے طور پر ہی ٹھکانے لگادیا گیا۔


سنتوش 22 اپریل کو اسپتال کے باتھ روم میں بے ہوش ہوگیا تھیں اور اسے زندہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ دم توڑ گیا۔ اسپتال کا عملہ مرنے والوں کی شناخت نہیں کرسکا اور اس کی فائل ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔اس طرح اسے کسی نامعلوم لاش کے معاملے کے طور پر لیا گیا۔ تحقیقات کی رپورٹ کے مطابق لاش ایک بیگ میں بھری ہوئی تھی اور اسے ٹھکانے لگادیا گیا تھا۔



اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے پیر کو کہا کہ اگر میرٹھ جیسے شہر کے میڈیکل کالج میں یہ حالت ہے تو چھوٹے شہروں اور دیہات سے متعلق ریاست کا پورا طبی نظام کو صرف ہندی کہاوت ’’رام بھروسے کی طرح ہی لیا جاسکتا ہے۔

اگر ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل عملہ اس طرح کے آرام دہ اور پرسکون انداز اپنائے اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرے تو یہ سنگین بدعنوانی کا معاملہ ہے کیونکہ یہ بے گناہ لوگوں کی جانوں سے کھیلنا جیسے ہی ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ریاست کو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

پانچ اضلاع کے ضلعی مجسٹریٹس کے ذریعہ پیش کردہ رپورٹ کو دیکھنے کے بعد عدالت نے کہا کہ ہمیں یہ مشاہدہ کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا کہ شہر کی آبادی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے شہر کے علاقوں میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ بالکل ناکافی ہے اور دیہی علاقوں میں معاشرتی صحت کے مراکز عملی طور پر موجود نہیں ہیں۔عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ پہلے جاری کردہ ہدایت کی تعمیل میں صحت کی دیکھ بھال کا مناسب انفراسٹرکچر مہیا کرے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 18, 2021 04:18 PM IST