مسجد کی چھت پر8 سالہ معصوم بچی کی آبروریزی کا الزام، ہنگامہ آرائی کے بعد ملزم گرفتار

میرٹھ کے تھانہ نوچندی علاقہ کے ڈھوائی نگرمیں مبینہ واقعہ کے بعد میڈیکل جانچ میں بچی سے آبروریزی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کررہی ہے۔

Aug 23, 2018 01:59 PM IST | Updated on: Aug 23, 2018 01:59 PM IST
مسجد کی چھت پر8 سالہ معصوم بچی کی آبروریزی کا الزام، ہنگامہ آرائی کے بعد ملزم گرفتار

علامتی تصویر

میرٹھ میں بدھ کو 8 سالہ معصوم بچی کے ساتھ محلے کے نوجوان نے مسجد کی چھت پر آبروریزی کی۔ متاثرہ کے اہل خانہ نے ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے تھانے میں جم کرہنگامہ کیا اورملزم کے گھرجاکراس کے اہل خانہ کوجم کرپیٹا۔

معاملہ میرٹھ  تھانہ کے نوچندی علاقہ کے ڈھوائی نگرکا ہے، جہاں پر8 سال کی معصوم بچی عید ملنے کے لئے پڑوس میں گئی تھی۔ میڈیکل جانچ میں بچی سے آبروریزی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کررہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق راستے میں ایک نوجوان اسے بہلا پھسلا کرمسجد کی چھت پرلے گیا اوروہاں اس کے ساتھ عصمت دری کی۔ بچی لہولہان ہوکراپنے گھرپہنچی اوراہل خانہ کو حادثہ کی اطلاع دی۔ اہل خانہ نے ملزم کی گرفتاری کے مطالبے کے ساتھ تھانے میں جم کر ہنگامہ کیا۔ وہیں ناراض لوگوں نےلڑکے کے گھرجاکراس کے اہل خانہ کوپیٹ ڈالا، اس کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتارکرلیا۔

واضح رہے کہ ان دنوں مغربی اترپردیش کے میرٹھ میں اوباشوں کی دہشت پرپولیس لگام لگانے میں ناکام ثابت ہورہی ہے۔ حال ہی میں اوباشوں کے دہشت سے پریشان ہوکر ایک لڑکی نے اپنے ہی گھر میں خودکشی کرلی تھی۔ ایک دیگر حادثہ میں بیٹیوں سے چھیڑچھاڑکی مخالفت کرنے پرایک اوباش نے والد کا قتل کردیا۔ میرٹھ میں آئے دن ہونے والی ایسی وارداتوں سے نصف آبادی خوف میں زندگی گزار رہی ہے۔

Loading...

 

 

 

Loading...