ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ : تاریخی نوچندی میلے کی ختم ہوتی قدیم روایت 

نوچندی میلہ کی قدیم روایت چنڈی دیوی مندر اور حضرت بالے میاں درگاہ سے وابستہ ہے ، لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں یہ روایت محض کاروباری تقاضوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور عقیدت کے ان مراکز کو بھی نظر انداز کیا جانے لگا ہے ۔

  • Share this:
میرٹھ : تاریخی نوچندی میلے کی ختم ہوتی قدیم روایت 
میرٹھ : تاریخی نوچندی میلے کی ختم ہوتی قدیم روایت 

میرٹھ کے قدیم نوچندی میلے کی سینکڑوں برس پرانی تہذیبی اور ثقافتی روایات اب ختم ہوتی نظر آ رہی  ہیں ۔ نگر نگم  میلہ کمیٹی اور ضلع انتظامیہ کی بدنظمی جہاں میلہ انتظامات پر بھاری پڑ رہی ہے ، وہیں میلہ کمیٹی  کے رویہ سے ناراض اور پریشان درگاہ حضرت بالے میاں اور چنڈی دیوی مندر انتظامیہ نے اب ان دونوں مقامات کا تعلق میلے سے ختم کرنے کا ضلع انتظامیہ کو انتباہ دیا ہے ۔


میرٹھ کا نوچندی میلہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی مثال رہا ہے ۔ میلے کی قدیم روایت چنڈی دیوی مندر اور حضرت بالے میاں درگاہ سے وابستہ ہے ، لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں یہ روایت محض کاروباری تقاضوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور عقیدت کے ان مراکز کو بھی نظر انداز کیا جانے لگا ہے ۔ ادھر کوڑے اور غلاظت کا ڈمپنگ گراؤنڈ بن چکا نوچندی میلہ میدان نگر نگم کی لاپروائی اور بدنظمی کی حقیقت خود بیان کر رہا ہے ۔ ہولی کے بعد دوسرے اتوار سے میلہ کی روایتی  شروعات کر دی جاتی ہے ، لیکن میلہ میدان کے حالات دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ نگر نگم اور میلہ کمیٹی انتظامات کو لے کر کتنی سنجیدہ ہے ۔


نگر نگم اور ضلع پنچایت کے زیر اہتمام میلہ کمیٹی ان دونوں مراکز کی گنگا جمنی تہذیب کی  قدیم  روایت کی بنیاد پر میلے کا انعقاد کرتی ہے اور وقف اراضی کا استعمال کرکے منافع بھی کماتی ہے ، لیکن درگاہ اور مندر کے رکھ رکھاؤ اور یہاں منعقد ہونے والے ثقافتی پروگراموں کے لئے کوئی امداد نہیں کرتی ۔ میلہ انتظامیہ کے رویہ سے ناراض اب ان دونوں مذہبی مراکز کے ذمہ داران نے خود کو میلہ نوچندی سے الگ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔


وہیں میلہ انتظامیہ کمیٹی کے ذمہ داران الزامات اور مطالبات کا اعتراف تو کرتے ہیں ، لیکن ایک رٹا رٹایا سا جواب دیکر اپنی ذمہ داری سے دامن بچاتے نظر آتے  ہیں ۔ میئر کے کہنا ہے کہ روایتی شروعات سے قبل تمام انتظامات مکمّل کرلئے جائیں گے ۔ میرٹھ کے قدیم نوچندی میلے کا وجود سینکڑوں برس سے اس شہر کی مشترکہ تہذیب اور قدیم ثقافتی روایات سے وابستہ  ہے ۔  قدیم روایات کے ختم ہونے سے اب اس تاریخی میلے کا وجود بھی خطرے میں نظر آ رہا ہے ۔
First published: Mar 16, 2020 10:22 PM IST