ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Oxygen Man:پٹنہ میں‘آکسجین مین‘سے موسوم گوراو رائےکون ہے؟کس طرح بن گئےلوگوں کےمسیحا؟جانئے یہاں

اپنی چھوٹی ویگن آر کار (WagonR car) میں آکسیجن سلنڈر اٹھائے ہوئے گوراو رائے اپنے دن کا آغاز صبح 5 بجے سے ہی کرتے ہیں اور کئی دن یہ آدھی رات تک ایک کالونی سے دوسری کالونی میں جاتے ہوئے اپنی گاڑی چلاتے ہیں اور مریضوں کے لئے مفت میں سلنڈر فراہم کرتے ہیں۔

  • Share this:
Oxygen Man:پٹنہ میں‘آکسجین مین‘سے موسوم گوراو رائےکون ہے؟کس طرح بن گئےلوگوں کےمسیحا؟جانئے یہاں
گوراو رائے

وہ ’آکسیجن مین‘ کے نام سے مشہور ہیں اور لوگ شاید ہی جانتے ہوں کہ ان کا اصل نام کیا ہے۔ ایک مشن کے حامل گوراو رائے (Gaurav Rai) سے ملیں۔ گوراو رائے ایک ایسے انسان ہیں، جنھوں نے اب تک 950 سے زائد کورونا مریضوں کو ان کے گھروں پر آکسیجن سلنڈر فراہم کرکے ان کی جان بچائی ہے۔اپنی چھوٹی ویگن آر کار (WagonR car) میں آکسیجن سلنڈر اٹھائے ہوئے گوراو رائے اپنے دن کا آغاز صبح 5بجے سے ہی کرتے ہیں اور کئی دن یہ آدھی رات تک ایک کالونی سے دوسری کالونی میں جاتے ہوئے اپنی گاڑی چلاتے ہیں اور مریضوں کے لئے مفت میں سلنڈر فراہم کرتے ہیں۔


کووڈ۔19 کی وجہ سے اس خدمت کے لئے گوراو رائے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے ہیں اور وہ بغیر کسی ایک دن کے وقفے کے بھی گذشتہ ایک سال سے اس خدمت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ وہ بے لوث خدمت ہے جس نے انھیں ’آکسیجن مین‘ بنادیا ہے۔گوراو رائے جنھوں نے ابھی 52 برس مکمل کیا ہے۔ وہ جولائی میں خود کووڈ-19 کے مریض تھے اور جب انہیں فوری طور پر پٹنہ میڈیکل کالج اسپتال کے کووڈ وارڈ پہنچایا گیا تو وہ اپنے لئے بستر نہیں پاسکے۔ یہ کورونا کی پہلی لہر کی انتہا تھی اور گوراو نے خود کو وارڈ کی سیڑھیاں کے پاس پایا۔ اس وقت انھیں آکسیجن دستیاب ہی نہیں ہوسکی۔



اس وقت بھی کورونا سے متاثر مریضوں کا تعداد بھی زیادہ تھی اور اسپتال میں آکسیجن سلنڈر دستیاب نہیں تھے اور ان کی اہلیہ کو آکسیجن سلنڈر نجی طور پر بندوبست کرنے میں پانچ گھنٹے لگے تھے۔یہی گوراو رائے کے لئے اہم موڑتھا۔ ایک بار جب وہ صحتیاب ہوے اور گھر واپس آئے تو انھوں نے ’’ زندگی کا آکسیجن‘‘ یعنی آکسیجن بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کے بعد سے انھوں نے ایک دن بھی آرام نہیں کیا۔

اس جوڑے نے اپنے پیسے جمع کرکے پٹنہ میں رہائش گاہ کے تہہ خانے میں ایک چھوٹا آکسیجن بینک شروع کیا اور یہ خبر پھیلتے ہی مختلف حلقوں سے لوگوں نے مدد کی اپیل شروع کی۔ خاص طور پر ان کے فیس بک اور ٹویٹر کے دوستوں نے اس میں بہت تعاون کیا۔ان کا آکسیجن بینک 10 سلنڈر سے شروع ہوا اور اب 200 سے زیادہ سلنڈرز موجود ہیں۔ جن میں سے بہت سے لوگ ان کے ذریعہ عطیہ کرتے ہیں جو ان کے کام کو سراہتے ہیں اور اپنا حصہ ادا چاہتے ہیں۔

یہ ایک انتھک عمل ہے جو چند ہی گھنٹوں میں ہر روز کال آنے کے بعد سلنڈر کو اپنی چھوٹی ویگن آر کار میں لوڈ کرتے ہوئے مریض کی جگہ پر پہنچایا جاتا ہے۔مریض کو آکسیجن دی جاتی ہے اور پھر جب مریض ٹھیک ہوجاتا ہے تو واپس جگہ پر جاتا ہے۔ سلنڈر واپس لے جاتے ہے۔ تاکہ اسے ضرورت مند کسی اور کو بھیجا جاسکے۔ اور یہ سب مفت میں کیا جاتا ہے اور ایک پائی بھی نہیں لی جاتی ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 22, 2021 08:53 AM IST