ہندوستانی تہذیب وثقافت سےعالم عرب کوروشناس کرانےکی ضرورت: ڈاکٹرشیخ عقیل احمد

قومی اردوکونسل کےڈائرکٹرنےکہا کہ عالم عرب کےبازارتک کتابوں کی فروخت کےلئے ماحول سازگارکیا جائےگا تاکہ عالم عرب کو ہندوستان کی صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت اورہندوستانی فلسفےسے روبرو کرایا جاسکے۔

Sep 30, 2019 11:45 PM IST | Updated on: Oct 02, 2019 04:26 PM IST
ہندوستانی تہذیب وثقافت سےعالم عرب کوروشناس کرانےکی ضرورت: ڈاکٹرشیخ عقیل احمد

ڈاکٹرشیخ عقیل احمد نے کہا ہے کہ ہندوستانی تہذیب وثقافت سےعالم عرب کوروشناس کرانےکی ضرورت ہے۔

نئی دہلی: موجودو دورمیں ہندوستان کی تہذیب و ثقافت اورقدیم فلسفہ سےعالم عرب کو روشناس کرانےکی ضرورت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہ بات صدردفترمیں منعقدہ عربی زبان پینل کی میٹنگ میں قومی کونسل برائے فروغ اردوکونسل (این سی پی یوایل) کےڈائرکٹرڈاکٹرشیخ عقیل احمد نےکہی۔ کونسل کی جاری کردہ ریلیزکےمطابق انہوں نےکہا کہ اسی لئےکونسل ہندوستان کی تہذیب و ثقافت اور فلسفے پرمبنی کتابوں کی اشاعت پرزوردے گی۔ انہوں نےکہا کہ قومی اردو کونسل کوعربی میں کتابیں شائع کرنےکا گوکہ مینڈٹ نہیں ملا ہے، مگرعربی زبان میں کتابوں کی اشاعت کے لئےمالی تعاون فراہم کرتی ہے۔ اب کونسل اس مینڈٹ کو حاصل کرنےکےلئےایگزیکیٹو بورڈ کی میٹنگ میں ایجنڈ ا رکھےگی۔

قومی اردوکونسل کےڈائرکٹرنےکہا کہ عالم عرب کےبازارتک کتابوں کی فروخت کےلئے ماحول سازگار کیا جائےگا تاکہ عالم عرب کو ہندوستان کی صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت اور ہندوستانی فلسفےسے روبرو کرایا جاسکے۔ اس حوالے سے حکومت ہند بھی بہت سنجیدہ ہے۔ انہوں نےمزید کہا کہ عرب ممالک میں قومی اردو کونسل کی کتابوں کی فروخت کی اجازت نہیں ہے، ہمیں حکومت ہند سے اس بابت بھی گزارش کرنی ہوگی۔ قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹرنے مزید کہا کہ جس طرح داراشکوہ کی فارسی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرایا جارہا ہے،اسی طرح عربی زبان کے ماہرین کی مدد سے داراشکوہ کی کتابوں کا عربی میں بھی ترجمہ کرایا جائےگا اس سےعالم عرب اور ہندوستان کے درمیان رشتوں میں اور مضبوطی آئے گی۔

میٹنگ کی صدارت پروفیسر نعمان خان نے کی۔ انھوں نے عربی پینل کی کارکردگی کا جائزہ لیا اوراطمینان کا اظہارکیا۔ انھوں نےکہا کہ عنقریب تاریخ ادب عربی، اور ہندوستان میں عربی زبان وادب کی تاریخ شائع ہوکرمنظرعام پرآجائےگی۔ جب کہ ’مشاہیرادبیات مشرقی‘ اور’اردو زبان و ادب پرعربی کےاثرات‘ یہ دونوں کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ اس کےعلاوہ دیگرممبران نے بھی کئی تجاویزرکھیں، جن پرغوروخوض کیا گیا۔

Loading...

آخرمیں ڈاکٹرایوب صدیقی (حیدرآباد) کی موت پردومنٹ کی خاموشی اختیارکی گئی اورانہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ میٹنگ میں پروفیسرحسنین اختر، پروفیسرمسعود انورعلوی، پروفیسررضوان الرحمن، ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی، ڈاکٹرسید علیم اشرف جائسی، ڈاکٹر مشیرحسین صدیقی، ڈاکٹرحسین پی کے مداوُور، مولانا علاء الدین ندوی، ڈاکٹر محمد قطب الدین کےعلاوہ اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک) ڈاکٹرشمع کوثر یزدانی، اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹرفیروزعالم، آبگینہ عارف، اورڈاکٹر شاہد اخترکےنام قابل ذکرہیں۔

Loading...