دفعہ 370 ہٹائی گئی تو کشمیر میں کوئی ترنگا نہیں اٹھائےگا: محبوبہ مفتی

جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ نےکہا کہ ہندوستانی آئین کا یہ دفعہ ملک اورجموں وکشمیرکے درمیان ایک پُل ہے، اگراس پُل کو منہدم کیا گیا توسنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔

Apr 02, 2019 10:56 PM IST | Updated on: Apr 02, 2019 10:56 PM IST
دفعہ 370 ہٹائی گئی تو کشمیر میں کوئی ترنگا نہیں اٹھائےگا: محبوبہ مفتی

محبوبہ مفتی نے سخت وارننگ دی۔

ہندوارہ:  پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹائی گئی تو کشمیرمیں کوئی ترنگا نہیں اٹھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی آئین کا یہ دفعہ ملک اورجموں وکشمیرکے درمیان ایک پُل ہے، اگراس پُل کو منہدم کیا گیا تو ریاست میں مین اسٹریم سیاستدان بھی یہ سوچنے پرمجبورہوں گے کہ 'ہمیں کیا کرنا ہے'۔ محبوبہ مفتی منگل کے روز یہاں انتخابی جلسے سے خطاب کررہی تھیں۔

جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ نے بی جے پی صدر امت شاہ کے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے سے متعلق حالیہ بیان پر کہا 'امت شاہ صاحب سے میں کہنا چاہتی ہوں، امت شاہ صاحب آپ غفلت میں ہو۔ آپ سوچتے ہوکہ ہم دفعہ 370 کوختم کریں گے۔ دفعہ 370 ہندوستان اور جموں وکشمیر کے لوگوں کے بیچ میں ایک پُل ہے۔ جب آپ اس پُل کو توڑو گے تو محبوبہ مفتی جیسے مین اسٹریم سیاستدانوں جوہندوستانی اورجموں وکشمیرکے آئین کی قسمیں کھاتے ہیں، کوسوچنا پڑے گا کہ ہم نےکیا کرنا ہے۔ 

Loading...

محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہم نے یہاں ہندوستان کا جھنڈا تھاما ہے۔ اگرآپ نے دفعہ 370 کو ہاتھ لگایا تو یہ جھنڈا ہمارے ہاتھوں نہ ہمارے کندھوں پر رہے گا'۔ انہوں نے کہا 'یہ میں ان لوگوں کو وارننگ دینا چاہتی ہوں جو اس وقت الیکشن لڑنے نکلے ہیں۔ ان کو الیکشن پاکستان پر بمباری جیسے معاملات پرلڑنا ہے'۔

دریں اثنا محبوبہ مفتی نے جلسے کے حاشیہ پرنامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران کانگریس کی جانب سے جموں وکشمیرسے متعلق مختلف معاملات کواپنے انتخابی منشورمیں شامل کئے جانے پرکہا 'میں اس کا خیرمقدم کرتی ہوں۔ بی جے پی کے ساتھ ہماری حکومت کے ایجنڈا آف الائنس میں افسپا کی منسوخی، سویلین علاقوں سے فورسزکا انخلا اورپاکستان وعلاحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات جیسے نکات شامل تھے۔ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ کانگریس نے ان معاملات کو اپنے انتخابی منشورمیں شامل کیا ہے'۔

پی ڈی پی صدرنے وادی کشمیرمیں این آئی اے اورای ڈی کی کارروائیوں پرکہا 'وادی میں کریک ڈاﺅن کا سلسلہ جاری ہے، این آئی اے کے ذریعے ہراسانی بھی جاری ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بی جے پی صدرکہتے ہیں کہ ہم جموں وکشمیرکولیکر سخت فیصلےلے رہے ہیں۔ وہ پورے ملک میں دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم نے جموں وکشمیرمیں طاقت کی پالیسی اختیارکی ہے۔ سید علی شاہ گیلانی کی املاک کو اٹیچ کرنا، میرواعظ  کے خلاف این آئی اے کا چھاپہ یہ سب اسی کا حصہ ہے۔ یہ ووٹ لینے کی پالیسی ہے'۔

Loading...