فیس بک کو کیسے پتہ چلتاہے کہ آپ نے آخری مرتبہ کب کیا سیکس، رپورٹ میں انکشاف

سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے ہمیں اپنی زندگی کے کئ کاموں میں مدد ملتی ہے مگر ہماری پرائویوسی بھی خطرے میں رہتی ہے۔ اگر فیس بک کی بات کریں کہ وہ آپ کے سیکریٹس کس حد تک جانتے ہے تو آپ حیران رہ جائیں گے۔

Sep 12, 2019 08:35 AM IST | Updated on: Sep 12, 2019 08:40 AM IST
فیس بک کو کیسے پتہ چلتاہے کہ آپ نے آخری مرتبہ کب کیا سیکس، رپورٹ میں انکشاف

علامتی تصویر

سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے ہمیں اپنی زندگی کے کئ کاموں میں مدد ملتی ہے مگر ہماری پرائویوسی بھی خطرے میں رہتی ہے۔ اگر فیس بک کی بات کریں کہ وہ آپ کے سیکریٹس کس حد تک جانتے ہے تو آپ حیران رہ جائیں گے۔ ایسا اس لئے کیونکہ فیس بک کو یہ پتہ ہے کہ آپ نے آخری مرتبہ کب سیکس کیا یا پھر کب مانع حمل کا استعمال کیا۔

حال ہی میں آئی اسٹڈی میں انکشاف ہوا ہے کہ فیس بک ٹریکر ایپلیکیشن فیس بک سے آپ کا سارا سینسٹو ڈیٹا شیئر کررہا ہے۔ بز فیڈ میں چھپی رپورٹ کے مطابق پرائیویسی انٹرنیشنل کی حال میں کی گئی ایک ریسرچ میں پایا گیا کہ خواتین کو پرئیڈس حیض کو ٹریک کرنےوالے دو سب سے مشہور ایپ مایا اور ایم آئی اے نے فیس بک سافٹ ویئر ڈیولپمینٹ کٹ کے ذریعے تھرڈ پارٹی ایپس اور ویب سائٹ کے ساتھ اپنے یوزرس کی نجی جانکاریوں کو شیئر کیا ہے۔

یہ پیریئڈ ٹریکر ایپس خواتین کو ان کے پیریئڈسائیکل ٹریک کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ان ایپس کو خواتین حاملہ ہونے کا صحیح وقت جاننے کیلئے بھی استعمال کرتی ہیں۔

Loading...

بز فیڈ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مایا ایپ مبینہ طور پر یوزرس کے پرائیویسی پالیسی کیلئے ایگری کئے جانے سے پہلے ہی ان کی ڈٹیل فیس بک کے ساتھ شیئر کررہا تھا۔ اس میں موجود کچھ فیچرس کے ذریعے یوزر کے موڈ کا بھی اندازہ لگایا جارہا تھا۔ پھر اسے فیس بک کے ساتھ شیئر کیا جارہا تھا۔ اس کے بعد یوزرس کو ان کے موڈ کے حساب سے ایڈ دکھائے جاتے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے کمپنیوں کو یوزرس تک ٹارگیٹ ایڈ پہنچانے میں مدد ملتی تھی۔

کہا گیا ہے کہ مایا ایپ کو گوگل پلے اسٹور سے 50 لاکھ مرتبہ اور ایم آئی اے ایپ کو 20 لاکھ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا ہے۔

 

Loading...