உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گرمی کا قہر جاری۔ دہلی میں 72 سال میں اپریل دوسری مرتبہ سب سے گرم مہینہ، 18ریاستوں کے 20شہروں میں درجہ حرارت 45 سے متجاوز

    اگلے پانچ دنوں تک ستائے گی گرمی!

    اگلے پانچ دنوں تک ستائے گی گرمی!

    ابھی درجہ حرارت میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مغربی اور وسطی ہندوستان میں ہیٹ ویو اگلے 5 دن تک جاری رہے گی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: گرمی نے لوگوں کاامتحان لینا شروع کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں بھی اس سے راحت ملنے والی نہیں ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں گزشتہ 72 برسوں میں دوسری بار اپریل کا مہینہ سب سے گرم مہینے کے طور پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس مہینے زیادہ سے زیادہ اوسط درجہ حرارت 40.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا ہے۔

      اس کے علاوہ مدھیہ پردیش، اتر پردیش، راجستھان سمیت 18 ریاستوں کے 20 سے زیادہ شہروں میں پارہ 45 ڈگری سے اوپر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس میں یوپی کا پریاگ راج 46 ڈگری کے ساتھ سرفہرست ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      وسنت پنچمی تک تیار ہوجائے گاPlay School کے نصاب کا فریم ورک

      دہلی میں گرمی نے 12 سال کا ریکارڈ توڑا
      دہلی میں جمعہ کو گرمی نے 12 سال کا ریکارڈ توڑ دیا۔ یہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43.5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے قبل اپریل میں 2010 میں 43.5 ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔ پھر 18 اپریل کو پارہ 43.7 تک پہنچ گیا تھا۔

      یوپی کے پریاگ راج سمیت 4شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سے متجاوز
      اتر پردیش میں موسم تیزی سے بدل رہا ہے۔ جمعرات کو پریاگ راج ریاست کا سب سے گرم شہر رہا۔ یہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45.9 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ جھانسی، آگرہ اور کانپور میں بھی پارہ 45 ڈگری کو پار کر گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Hyderabad: حیدرآبادمیں یتیم وپسماندہ بچوں کی تعلیم کااقامتی ادارہ’ادارہ عالیہ صاحب العلمیہ

      یہ بھی پڑھیں:
      Explained: مسلمانوں کے لیے آسام میں ’شناختی تجویز‘ کیا ہے؟ کیوں کی جارہی ہے اس کی مخالفت؟

      ابھی درجہ حرارت میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مغربی اور وسطی ہندوستان میں ہیٹ ویو اگلے 5 دن تک جاری رہے گی۔ مشرقی ہندوستان میں 3 دن کے بعد گرمی کی لہر میں کچھ راحت ملنے کا امکان ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: