ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

وزار ت فروغ انسانی وسائل سے وزات اقلیتی امورمنتقل ہوگی مدرسہ جدید کاری اسکیم، مدرسہ ایسوسی ایشن نے اٹھایا سوال

مرکزی حکومت کی وزارت برائے انسانی وسائل کی مدرسہ ماڈرنائزیشن اساتذہ اسکیم مرکزی اقلیتی وزارت کو منتقل کردی جائے گی۔ مرکزی اقلیتی وزارت یوپی سمیت دیگر ریاستوں کو خط بھیج رہی ہے۔

  • Share this:
وزار ت فروغ انسانی وسائل سے وزات اقلیتی امورمنتقل ہوگی مدرسہ جدید کاری اسکیم، مدرسہ ایسوسی ایشن نے اٹھایا سوال
وزار ت فروغ انسانی وسائل سے وزات اقلیتی امورمنتقل ہوگی مدرسہ جدید کاری اسکیم

نئی دہلی: مرکزی حکومت کی وزارت برائے انسانی وسائل کی مدرسہ ماڈرنائزیشن اساتذہ اسکیم مرکزی اقلیتی وزارت کو منتقل کردی جائے گی۔ مرکزی اقلیتی وزارت یوپی سمیت دیگر ریاستوں کو خط بھیج رہی ہے۔ اترپردیش میں مدرسہ اسکیم رجسٹرار اور عہدیداروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ میں  اسکیم کو اقلیتی وزارت کو منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اترپردیش مدرسہ کے رجسٹرار نے تصدیق کردی ہے۔ اترپردیش میں اس اسکیم کے تحت صرف 25000 اساتذہ کام کرتے ہیں۔ اس اسکیم میں تقریبا 50 ہزار اساتذہ کام کرتے ہیں۔


گزشتہ کئی مہینوں سے وزارت اقلیتی امور کے مدرسہ جدید کاری اسکیم میں دلچسپی لینے کے اشارے مل رہے تھے۔ تاہم یہ بات صاف ہوگئی ہےکہ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کے تحت چلائی جانے والی اس اسکیم کو مرکزی وزارت اقلیتی امور کے تحت لایا جائےگا۔ گزشتہ مہینوں میں اترپردیش کے اساتذہ کے تعلق سے کئی خطوط وزارت فروغ انسانی وسائل کو بھیجے گئے اور ساتھ ہی ساتھ ہرخط وزارت اقلیتی امورکو بھی بھیجا گیا۔ تاہم دو روز قبل اترپردیش کے مدرسہ رجسٹرار اور سرکاری عہدیداروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ میں اس بات پراتفاق ہوگیا ہے کہ اسکیم کو وزار ت اقلیتی امور کو ٹرانسفر کردیا جائےگا۔ البتہ نوٹفیکشن اور آڈر ابھی جاری نہیں کئے گئے ہیں۔ نیو ز 18 اردو کو ملی معلومات کی تصدیق اترپردیش کے سرکاری ذرائع سے ہوچکی ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے خطوط اور لیٹر اقلیتی امور کی وزارت ضرور بھیج رہی ہے۔ تاہم ابھی تک ہوئی تحریری آرڈر حکم نامہ نہیں آیا ہے، جس سے ٹرانسفر کی بات ہو، تاہم ایک ویڈیو کانفرنس ہوئی ہے۔


ہ بات صاف ہوگئی ہےکہ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کے تحت چلائی جانے والی اس اسکیم کو مرکزی وزارت اقلیتی امور کے تحت لایا جائےگا۔
ہ بات صاف ہوگئی ہےکہ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کے تحت چلائی جانے والی اس اسکیم کو مرکزی وزارت اقلیتی امور کے تحت لایا جائےگا۔


اساتذہ ایسوسی ایشن نے بھیجا مرکز کو خط
اسکیم کے تحت کام کرنے والے اساتذہ کیلئے اب بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر وزارت فروغ انسانی وسائل یہ اسکیم کو اقلیتی وزارت بھیج دیا جاتا ہے، تو ان کی 4 سالوں کی بقایا تنخواہ  کا کیا ہوگا۔ کیا اقلیتی امور کی وزارت گِزشتہ سالوں کی سیلری دینے کے تیا رہو گی، یا پھر وزارت فروغ انسانی وسائل کے اوپر بقایا بنا رہے گا۔ ان اساتذہ کی ایسوسی ایشن اسلامک مدرسہ جدیدکاری اساتذہ اسوسی ایشن آف انڈیا کی جانب سے ایک خط وزیر اعظم، وزیرفروغ انسانی وسائل، وزیر اقلیتی امورکے نام لکھا گیا ہے، جس میں اس بات پر اصرار کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے دور میں اساتذہ کی تنخواہ دے دی جانی چاہئے اور اسکیم کو ایک وزارت سے دوسری وزارت بھیجنا عجیب ہے۔ سوال کیا گیا ہے کہ اگر دوسری وزارت گزشتہ سالوں کی سیلری دینے میں آناکانی کرتی ہے تو اس کی ذمہ داری کون لے گا۔
وزارت تعلیم سے اسکیم کی منتقلی پر سوال
ایسوسی ایشن کی جانب سے بھیجے گئے خط میں اسکیم کو وزارت تعلیم سے اقلیتی امور بھیجے جانے پر اعتراض جتایا گیا ہے اور خط میں لکھا گیا ہے کہ اسکیم مدرسوں میں جدید تعلیم دینےکیلئے لائی گئی تھی۔ وزارت تعلیم کے پاس این سی ای آر ٹی اور ایس سی ای آر ٹی جیسے عمدہ تعلیمی ادارے ہیں تعلیمی اداروں کے پاس بلاک سطح تک بنیادی ڈھانچہ موجود ہے، ایسے میں صرف وزارت تعلیم ہی مدرسوں کی اسکیم کو مزید اور بہتر بناسکتی ہے۔ وزارت اقلیتی امور کو تعلیمی اسکیم چلانےکا کوئی تجربہ نہیں ہے، ایسے میں اسکیم کیسے چلائی جائے گی؟ یہ ایک افسوسناک فیصلہ ہے۔

ایسوسی ایشن کی جانب سے بھیجے گئے خط میں اسکیم کو وزارت تعلیم سے اقلیتی امور بھیجے جانے پر اعتراض جتایا گیا ہے اور خط میں لکھا گیا ہے کہ اسکیم مدرسوں میں جدید تعلیم دینےکیلئے لائی گئی تھی۔ فائل فوٹو
ایسوسی ایشن کی جانب سے بھیجے گئے خط میں اسکیم کو وزارت تعلیم سے اقلیتی امور بھیجے جانے پر اعتراض جتایا گیا ہے اور خط میں لکھا گیا ہے کہ اسکیم مدرسوں میں جدید تعلیم دینےکیلئے لائی گئی تھی۔ فائل فوٹو


1993 میں شروع ہوئی تھی اسکیم ایسوسی ایشن کے صدر اعجاز بتاتے ہیں کہ اسکیم کو 1993 میں شروع کیا گیا تھا، لیکن اس کا نام بدلتا رہا ہے۔ اسکیم وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام میں شامل ہے۔ اسکیم کا تجزیہ این سی ای آر ٹی اور ایس سی ای آر ٹی کے ذریعہ کیا جاتا رہا ہے۔ اساتذہ کی تربیت بھی ہوتی رہی ہے، اسی کی وجہ سے مدرسوں کی تعلیم او رمعیار میں کافی اصلاح ہوئی ہے، لیکن جب چار سالوں سے سیلری نہیں ملی ہے۔ ایسے میں اسکیم کو متقل کرنا بہت افسوسناک ہے۔ کوئی بھی تعلیمی ماہرنہیں کہے گا کہ تعلیم کی اسکیم وزارت تعلیم کے بجائے اقلیتی امو رکی وزارت کو دے دی جائے۔ وزیر اعظم سے ہماری اپیل ہے کہ اسکیم کو وزارت فروغ انسانی وسائل کے تحت ہی رکھا جائے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 20, 2020 03:32 PM IST