ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لاؤڈاسپیکرسے اذان دینے کامعاملہ:اترپردیش کے وزیر آنندسوروپ شکلا نے کی یہ شکایت

ریاستی وزیر نے اپنے خط میں یہ بھی کہاہے کہ اذان کی آواز سے لوگوں کے معمولات متاثر ہورہے ہیں۔انہوں نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے آنے والی اذان کی آواز سے یوگا ، مراقبہ ، عبادت اور سرکاری کاموں میں مداخلت کرتی ہے۔

  • Share this:
لاؤڈاسپیکرسے اذان دینے کامعاملہ:اترپردیش کے وزیر آنندسوروپ شکلا نے کی یہ شکایت
مرکزی وزیر نے اپنے خط میں یہ بھی کہاہے کہ اذان کی آواز سے لوگوں کے معمولات متاثر ہورہے ہیں۔

اترپردیش کے  وزیر آنند سوروپ شکلا (Anand Swarup Shukla) نے اتر پردیش کے بلیا میں ایک مسجد میں لاؤڈ اسپیکر سے اذان دیئے جانے پر اعتراض جتایاہے۔ وزیر مملکت نے ضلعی مجسٹریٹ کو ایک خط لکھ کر مدینہ مسجد سے آنے والی اذان کی آواز سے خلل پڑنے کی بات کہی ہے۔ خط میں ، انہوں نے مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے اذان کی وجہ سے شور و شرابہ ہونے اور صوتی آلودگی کا معاملہ اٹھایا ہے۔ریاستی وزیر نے اپنے خط میں یہ بھی کہاہے کہ اذان کی آواز سے لوگوں کے معمولات متاثر ہورہے ہیں۔انہوں نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے آنے والی اذان کی آواز سے یوگا ، مراقبہ ، عبادت اور سرکاری کاموں میں مداخلت کرتی ہے۔


وزیر مملکت نے ضلعی مجسٹریٹ کو ایک خط لکھ کر مدینہ مسجد سے آنے والی اذان کی آواز سے خلل پڑنے کی بات کہی ہے۔
وزیر مملکت نے ضلعی مجسٹریٹ کو ایک خط لکھ کر مدینہ مسجد سے آنے والی اذان کی آواز سے خلل پڑنے کی بات کہی ہے۔


وزیر نے خط میں لکھا کہ میرے لوک سبھا حلقہ میں مدینہ مسجد کاجی پورہ کے قریب بہت سے تعلیمی ادارے ہیں جو کوتوالی شان کے تحت آتے ہیں ، لہذا لاؤڈ اسپیکر کی تیز آواز کی وجہ سے ان میں پڑھنے والے طلبہ کو بھی دشواری ہورہی ہے۔


یادرہے کہ اس پہلے سے الہ آباد سینٹرل یونیورسٹی (Allahabad Central University)کی وائس چانسلر نے اذان (Azaan)سے نیند میں خلل پڑنے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ اس سلسلہ میں وی سی ڈاکٹر سنگیتا سریواستو (Vice Chancellor Prof Sangeeta Srivastava)نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے شکایت کی تھی۔ وی سی نے کمشنر ، آئی جی اور ایس ایس پی سمیت متعدد عہدیداروں کے مکتوب لکھاتھا۔ وائس چانسلر نے خط میں کہا کہ ہر صبح لاؤڈ اسپیکر آنے والی تیز آواز سننے کی وجہ سے اس کی نیند میں خلل پڑرہاہے۔ جس کے بعد مسجد کے انتظامیہ نے رضاکارانہ طورپر مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کی آواز میں کمی کردی تھی ۔ مسجد انتظامیہ نے کہا کہ اگر وی سی کی جانب سے پولیس کے بجائے مسجد کمیٹی سے بات کی جاتی تو یہ معاملے پہلے ہی حل ہوجاتاتھا۔

و ہیں دوسری جانب الہ آباد یونیورسٹی ( Allahabad University) کے وائس چانسلر پروفیسر سنگیتا شریواستو (VC Sangeeta Srivastava) کی جانب سے اذان کو لیکر ضلعی مجسٹریٹ سے کی گئی شکایت پر اسلامی اسکالرس نے بھی ناراضگی کا اظہارکیاتھا۔ شیعہ مذہبی استاد مولانا سیف عباس نے وائس چانسلر کی طرف سے کی گئی شکایت پر کہا کہ صبح کا کیرتن بھی غلط ہونا چاہیے۔ انہوں نے وائس چانسلر سے اپنی شکایت واپس لینے کا مطالبہ کیاہے۔مولانا سیف عباس نے بتایا کہ اذان میں دو سے تین منٹ لگتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ ہوسکتے ہیں۔ اگر وائس چانسلر نے صبح کی آرتی اور کیرتن کے بارے میں بھی شکایت کی ہوتی ، تو یہ مسئلہ کو سمجھا جاسکتاہے لیکن صرف اذان کے بارے میں شکایت نامہ دینا مناسب نہیں ہے۔ وہ بھی ایک یونیورسٹی میں ایک اعلی ٰعہد ہ پر فائز رہے کر شکایت کرنا غلط ہے۔ میری گذارش ہے کہ وہ اپنی شکایت واپس لیں۔

جبکہ جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک میں لاوڈ اسپیکر سے اذان دینے کے معاملے میں کرناٹک وقف بورڈ نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ کرناٹک وقف بورڈ نے سرکولر میں ترمیم کرتے ہوئے وضاحت جاری کی ہے۔ اطلاع کے مطابق نماز فجر کی اذان لاوڈ اسپیکر کے ذریعہ دی جاسکتی ہے۔ کرناٹک وقف بورڈ نے اب وضاحت کی ہے۔کرناٹک وقف بورڈ نے اپنے نئے سرکلر میں وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے سرکلرکے مواد کو غلط طریقے پیش کیا گیا ہے۔ فجرکی اذان کیلئے لاوڈ اسپیکرکے استعمال کو ممنوع قرار دینے کی بات غلط ہے۔ جبکہ سرکلرکے پوائنٹ نمبر تین میں کہا گیا ہے کہ لاوڈ اسپیکرکا استعمال اذان اور دیگر ضروری اعلانات کیلئے کیا جاسکتا ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Mar 23, 2021 09:47 PM IST