ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

وزیر مملکت برائے زراعت کی کسانوں کو دوٹوک ، قانون رد نہیں ہوگا ، کچھ جوڑنا ہو تو بتائیں

کسانوں کا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت تینوں زرعی قوانین کو واپس لے جبکہ حکومت نے واضح کردیا ہے کہ وہ قانون میں ترمیم کیلئے تیار ہے ، لیکن قانون واپس نہیں لیا جائے گا ۔

  • Share this:
وزیر مملکت برائے زراعت کی کسانوں کو دوٹوک ، قانون رد نہیں ہوگا ، کچھ جوڑنا ہو تو بتائیں
وزیر مملکت برائے زراعت کی کسانوں کو دوٹوک ، قانون رد نہیں ہوگا ، کچھ جوڑنا ہو تو بتائیں

زرعی قوانین کی مخالفت میں دہلی سرحد پر ڈٹے کسانوں کے آندولن کا آج 19 واں دن ہے ۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت تینوں زرعی قوانین کو واپس لے جبکہ حکومت نے واضح کردیا ہے کہ وہ قانون میں ترمیم کیلئے تیار ہے ، لیکن قانون واپس نہیں لیا جائے گا ۔ اسی درمیان اب مرکزی مملکت وزیر برائے زراعت کیلاش چودھری نے کسانوں سے سرکار سے بات چیت کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ کسان گزشتہ کافی دنوں سے آندولن کررہے ہیں ، میں کسانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ سرکار کے ساتھ بیٹھ کر قوانین سے متعلق امور کو حل کریں ۔


کیلاش چوھری نے کہا کہ کسان مرکزی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر اپنی بات رکھیں اور اگر اس میں کچھ جوڑنا ہے یا کسی خدشہ کا ازالہ کرنا ہے تو کرسکتے ہیں ، لیکن یہ پوری طرح سے رد نہیں ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کسان حکومت کے ساتھ بیٹھ کر بات نہیں کریں گے تب تک اس کا حل نہیں نکلے گا ۔




بتادیں کہ کسان لیڈر سندیپ گڈو نے بتایا کہ 19 دسمبر کو مجوزہ کسان بھوک ہڑتال رد کردی گئی ہے ۔ اس کی بجائے پیر کو دن بھر بھوک ہڑتال کی جائے گی ۔ وہیں کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ اگر حکومت بات چیت کی ایک اور تجویز پیش کرتی ہے تو ہماری کمیٹی اس پر غور کرے گی ۔

کسانوں کا آندولن ختم کرانے کیلئے سرکار ہوئی متحرک

کسانوں کو منانے اور آندولن ختم کرانے کیلئے سرکار بھی متحرک ہوگئی ہے ۔ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر ، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملنے ان کے گھر پہنچے ہیں ۔ وزیر دفاع راجناتھ سگنھ کو بھی کسانوں کو سمجھانے  کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ تومر اور راجناتھ سنگھ دونوں سبھی سے الگ الگ بات کریں گے ، لیکن پنجاب کے کسان لیڈروں سے بات کرنے کی ذمہ داری امت شاہ نے اپنے پاس رکھی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 14, 2020 03:08 PM IST