جموں وکشمیر سے فوج ہٹائے جانے کا فی الحال کوئی پلان نہیں: جی کشن ریڈی

مرکزی مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی نے کہا کہ 'کچھ مقامات پر دفعہ 144 ہٹا لی گئی ہے۔ سرکاری دفتروں میں کام کاج شروع ہو گیا ہے۔ ہم دھیرے۔دھیرے کچھ پابندیوں کو کم کررہے ہیں۔ کچھ اضلاع کو چھوڑ کر باقی مقامات پر انٹرنیٹ اور ٹیلی فون خدمات بحال کر دی گئی ہیں'۔

Aug 22, 2019 08:27 AM IST | Updated on: Aug 22, 2019 08:48 AM IST
جموں وکشمیر سے فوج ہٹائے جانے کا فی الحال کوئی پلان نہیں: جی کشن ریڈی

جموں وکشمیرسے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد معمول پرلوٹ رہے ہیں حالات۔(تصویر:نیوز18ڈاٹ کام)۔

مرکزی مملکتی وزیرداخلہ جی کشن ریڈی نے بدھ کو کہا کہ مرکز حکومت کی جموں۔کشمیر سے سکیورٹی فورسز کو واپس بلانے کی ایمرجنسی کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ریڈی نے کہا، "ہم وہاں سے فوراً فوجی واپس کیوں بلائیں گے جبکہ پاکستان اکسانے کی کوشش کررہا ہے"۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کو اکسانے اور امن کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی برادری تک اپنی بات پہنچا سکے۔ریڈی نے کہا کہ فوجیوں کو واپس بلایا جائے یا نہیں یہ فیصلہ مقامی انتظامیہ لے گا۔

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں حالات اب پرامن ہیں اور وزیر داخلہ امت شاہ حالات پر مسلسل نظر رکھ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسکول کھل گئے ہیں۔ کچھ مقامات پر دفعہ 144 ہٹا لی گئی ہے۔ سرکاری دفتروں میں کام کاج شروع ہو گیا ہے۔ ہم دھیرے۔دھیرے کچھ پابندیوں کو کم کررہے ہیں۔ کچھ اضلاع کو چھوڑ کر باقی مقامات پرانٹرنیٹ اور ٹیلی فون خدمات بحال کر دی گئی ہیں۔ ریڈی نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کوجموں و کشمیر میں اجلاس منعقد کرنے کے لئے کچھ  دن انتظارکرناچاہئے کیوں کہ مرکزنے وہاں لا اینڈ آرڈر کےحالات خراب کرنے میں پاکستان کے بد نیتی کےمد نظر کچھ پابندیاں عائد کردی ہیں۔ ریڈی نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ جموں و کشمیر میں امن میں خلل ہو اور وہ دنیا کو کہہ سکے کہ کشمیرکو لیکر ہندستانی حکومت کے فیصلے غلط ہیں

Loading...

 

Loading...