ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آئی ای ایس سبحان علی کا سراغ لگائے وزارت دفاع، اہل خانہ کی اپیل

وزارت دفاع کے اعلیٰ افسر آئی ای ایس سبحان علی کو غائب ہوئے 14 دن ہوچکے ہیں، لیکن اب تک نہ تو وہ خود اور نہ ہی ان کے ڈائیور لانس نائک پلوندر سنگھ کا کوئی سراغ مل سکا ہے۔ ایسے میں اب سبحان علی کے اہل خانہ کی امیدیں وزارت دفاع سے وابستہ ہوگئی ہیں۔

  • Share this:
آئی ای ایس سبحان علی کا سراغ لگائے وزارت دفاع، اہل خانہ کی اپیل
گمشدہ نوجوان آئی ای ایس سبحان علی کا وزارت دفاع سے سراغ لگانے کی اپیل۔ فائل فوٹو

نئی دہلی: لداخ میں کارگل کے قریب دراس ندی میں حادثہ کے بعد جپسی کے دراس ندی میں گرنےکی وجہ سے غائب ہوجانے والے وزارت دفاع کے اعلیٰ افسر آئی ای ایس سبحان علی کو غائب ہوئے 14 دن ہوچکے ہیں، لیکن اب تک نہ تو وہ خود اور نہ ہی ان کے ڈائیور لانس نائک پلوندر سنگھ کا کوئی سراغ مل سکا ہے۔ ایسے میں اب سبحان علی کے اہل خانہ کی امیدیں وزارت دفاع سے وابستہ ہوگئی ہیں۔ سبحان علی کی تلاش میں لداخ جاکر واپس لوٹے سبحان علی کے بڑے بھائی شعبان علی نے وزارت دفاع سے اپیل کی ہے کہ وزارت اپنے وسائل بروئےکار لاتے ہوئے ان کے بھائی کا سراغ لگائے، حادثے کی جگہ کافی  مشکلات پیش آئی، لیکن بی آر او اور مقامی انتظامیہ نے کوشش کرکے تین دن کے بعد گاڑی نکال لی تھی، لیکن اب کافی دن ہوچکے ہیں، ہمارے خاندان پر اس سانحہ کابرا اثر پڑا ہے۔ خاندان بکھر رہا ہے میں نے اپنے بھائی کو بیٹے کی طرح پالا ہے، ہم قسمت کے سہارے نہیں بیٹھ سکتے۔ ہم چاہتے ہیں حکومت ہند اور وزارت دفاع اپنے وسائل کے ذریعہ پتہ لگائے، جس حال میں بھی میرا بھائی ہے وہ پتہ لگایا جائے۔


22 جون کو لاپتہ ہوئے سبحان علی اور پلوندر


اترپردیش کے ضلع بلرام پور سے تعلق رکھنے والے سبحان علی کو ماہ فروری میں فوج جوائن کرنے کے بعد آر سی سی 81 میں تعیناتی ملی تھی۔ ان کو مینا مرگ کوارنٹائن سینٹر کا انچارج بنایا گیا تھا۔ دراس علاقہ میں 22 جون کی شام سے کوئی اطلاع نہیں ملی، جس کے بعد تلاش شروع کی گئی اور ایک جگہ ندی کنارے گاڑی کے کچھ ٹکڑے دکھائی دیئے، جس کے بعد ندی سے ان کی جپسی برآمد کرلی گئی۔ تاہم سبحان علی اور ان کے ڈرائیور لانس نایک پلوندر سنگھ جن کو 10 سال گاڑی چلانےکا تجربہ بھی تھا، ان کا کوئی سراغ نہیں ملا، جس کی وجہ سے دونوں کو گمشدہ قرار دے دیا گیا ہے۔ فوج کی جانب سے ایک خط سبحان علی کے والد کو بھیجا گیا، جس میں ان کو مقامی تھانہ میں ایف آئی آر درج کرانے کے لئے کہا گیا ہے۔


حادثے کا ندی سے ان کی جبسی برآمد کرلی گئی۔ تاہم سبحان علی اور ان کے ڈرائیور لائنس نایک پلوندر سنگھ جن کو 10 سال گاڑی چلانےکا تجربہ بھی تھا ان کا کوئی سراغ نہیں ملا اور نہ ہی ان کی باڈی ملی
حادثے کا ندی سے ان کی جپسی برآمد کرلی گئی۔ تاہم سبحان علی اور ان کے ڈرائیور لانس نایک پلوندر سنگھ جن کو 10 سال گاڑی چلانےکا تجربہ بھی تھا ان کا کوئی سراغ نہیں ملا اور نہ ہی ان کی باڈی ملی


پاکستان جاتی ہے دراس ندی

لداخ کی جس دراس ندی میں سبحان علی کی جپسی حادثے کا شکار ہوئی تھی، اس میں پانی کا بہاﺅ کافی تیز ہے۔ کوئی عام آدمی اس میں تیراکی کرکے تلاش نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جپسی نکالنے کے لئے ہیوی کرین لگانی پڑی۔ اس کے علاوہ پانی کا ٹمپریچر کافی زیادہ کم ہوتا ہے، تقریباً ایک سے دو ڈگری پانی کا ٹمپریچر ہوتا ہے، اس لئے زیادہ دیر پانی میں رہنا مشکل ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ ندی آگے جاکر پاکستان مقبوضہ کشمیر میں چلی جاتی ہے۔

لداخ کے جس دراس ندی میں سبحان علی کی جپسی گری تھی، اس میں پانی کا بہاﺅ کافی تیز ہے۔
لداخ کے جس دراس ندی میں سبحان علی کی جپسی گری تھی، اس میں پانی کا بہاﺅ کافی تیز ہے۔


ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ یافتہ اور  ضلع ٹاپر رہے ہیں سبحان علی

سبحان علی کا بچپن کافی غربت میں گزرا ہے اور ان کے والد سلائی کا کام کیا کرتے تھے، لیکن سبحان علی پڑھائی میں انتہائی ذہین تھے اور انہوں نے ضلع بلرام پور کا نام روشن کیا تھا۔ انھوں نے دسویں اور بارہویں کلاس میں ٹاپ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کو ینگ ساسنٹسٹ کا ایوارڈ بھی ملا تھا۔ انھوں نے سینٹرل یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بی ٹیک اور آئی آئی ٹی دہلی سے ایم ٹیک کی ڈگری حاصل کی تھی۔ ڈی ڈی اے میں ان کا انتخاب ہوگیا تھا، اس کے علاوہ وہ انڈین انجینئرنگ سروس میں منتخب ہوکر فوج میں پہنچے تھے۔ 27 سال کی عمر میں سبحان علی کا فی کچھ کرچکے تھے۔

سبحان علی کی شادی 4 اپریل کو ہی ہونے والی تھی، لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں ہوئے لاک ڈاﺅ ن کی وجہ سے شادی کو ملتوی کردیا گیا اور پھر 27 جولائی کو دوبارہ شادی کی تاریخ طے کردی گئی تھی۔
سبحان علی کی 27 جولائی کو شادی ہونے والی تھی۔دوبارہ شادی کی تاریخ طے کردی گئی تھی۔


27 جولائی کو ہونے والی تھی شادی

سبحان علی اپنے گھر میں چھوٹے تھے۔ اہل خانہ میں تین بہنوں کے علاوہ بڑے بھائی شعبان علی، والدہ اور والد ہیں۔ سبحان علی کی شادی 4 اپریل کو ہی ہونے والی تھی، لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں ہوئے لاک ڈاﺅ ن کی وجہ سے شادی کو ملتوی کردیا گیا اور پھر 27 جولائی کو دوبارہ شادی کی تاریخ طے کردی گئی تھی۔



وزارت دفاع سے ہیں امیدیں

سبحان کی تلاش میں بڑے بھائی شعبان علی لداخ ہوکر آئے ہیں۔ شعبان کے ساتھ فیملی فرینڈ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالر حبیب الرحمٰن  بھی تھے۔ حبیب الرحمن بتاتے ہیں کہ مقامی سطح پر پوری کوشش کی گئی، مقامی انتظامیہ کی جانب سے ہر طرح سے ہم سے بھی تعاون کیا گیا، لیکن اب حکومت ہند بڑے پیمانے پر تلاش شروع کراتی ہے تو سبحان علی اور پلوندر سنگھ کے مل جانے کی امید ہے۔ خاندان پر برا اثر پڑا ہے، والدہ بے ہوش ہو کرگرگئیں، جس کی وجہ سے ان کا ہاتھ بھی ٹوٹ گیا۔ 14 دن گزرگئے ہیں، اب وزارت دفاع اور حکومت ہند سے ہی امیدیں ہیں۔
First published: Jul 05, 2020 11:26 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading