ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

حکومت کا حکم- جموں وکشمیر کا غلط نقشہ اپنے پلیٹ فارم سے ہٹائے Wikipedia

منسٹری آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹکنالوجی (Ministry of Electronics and Information Technology) نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ، 2000 کی دفعہ 69 اے کا حوالہ دیتے ہوئے ویکیپیڈیا کو حکم جاری کیا ہے۔

  • Share this:
حکومت کا حکم- جموں وکشمیر کا غلط نقشہ اپنے پلیٹ فارم سے ہٹائے Wikipedia
حکومت کا حکم- جموں وکشمیر کا غلط نقشہ اپنے پلیٹ فارم سے ہٹائے Wikipedia

نئی دہلی: منسٹری آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹکنالوجی نے ویکیپیڈیا  (Wikipedia) کو جموں وکشمیر (Jammu and Kashmir) کا غلط نقشہ دکھانے والے لنک کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی  وزارت (Ministry of Electronics and Information Technology) نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ، 2000 کی دفعہ 69 اے کا حوالہ دیتے ہوئے ویکیپیڈیا کو حکم جاری کیا ہے۔


حکومت نے ویکیپیڈیا سے اس لنک کو ہٹانے کا حکم دیا ہے، جس میں جموں وکشمیر کا غلط نقشہ (Wrong map of Jammu and Kashmir) دکھایا گیا ہے۔ دراصل، یہ معاملہ ایک ٹوئٹر صارف نے اجاگر کیا تھا، جس پر وزارت نے کارروائی کی۔




ذرائع نے کہا کہ ٹوئٹر صارف نے ہندوستان - بھوٹان تعلقات پر ویکیپیڈیا کے پر روشنی ڈالی تھی، جہاں دکھائے گئے نقشے میں جموں وکشمیر کو غلط طریقے سے دکھایا گیا تھا۔  آفیشیل اطلاعات کے مطابق، الیکٹرانکس اور وزیر اطلاعات ونشریات روی شنکر پرساد نے اس پر نوٹس لیتے ہوئے 27 نومبر کو ایک حکم جاری کیا، جس میں ویکیپیڈیا کو اس پیج کو ہٹانے کا حکم دیا گیا کیونکہ یہ علاقائی سالمیت اور اتحاد کی خلاف ورزی ہے۔

حکومت عائد کرسکتی ہے ویب سائٹ پر پابندی

اگر ویکیپیڈیا حکومت کے اس حکم پر عمل نہیں کرتی ہے تو حکومت اس کے خلاف قانونی کارروائی کرسکتی ہے۔ اس میں ویب سائٹ پر پابندی عائد کرنا بھی شامل ہے۔

پہلے بھی حکومت کرچکی ہے کارروائی

حالانکہ یہ پہلی بار نہیں جب ہندوستانی حکومت نے کسی پلیٹ فارم پر ہندوستان کا غلط نقشہ دکھانے پر سختی دکھائی ہے۔ اس سے پہلے ٹوئٹر نے لیہہ کو پیپلز ریپبلک آف چائنا (چین) کے حصے کے طور پر دکھایا تھا، جس کے بعد منسٹری آف انفارمیشن ٹکنالوجی کے سکریٹری نے ٹوئٹر کے سی ای او جیک ڈورسے کو اس پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے ایک خط لکھا تھا۔ اس کے بعد ٹوئٹر نے پارلیمانی پینل کے سامنے تحریری طور پر معافی مانگی تھی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 02, 2020 11:49 PM IST