ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

اقلیتوں سے متعلق کمیٹیوں کی نہیں ہورہی ہے تشکیل، ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کی جانب سے سات نکاتی مطالبات پر مشتمل ریاستی وزیر کو میورنڈم

ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلی مولانا محمد قطب الدین رضوی کی قیادت میں ایک اعلی سطحی وفد حکومت جھارکھنڈ کے کابینہ وزیر قدآور لیڈر عالمگیر عالم سے مل کر ریاست کو کرو مضبوط ومستحکم مہم کے تحت 8 نکاتی میمورنڈم سپرد کیا۔

  • Share this:
اقلیتوں سے متعلق کمیٹیوں کی نہیں ہورہی ہے تشکیل، ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کی جانب سے سات نکاتی مطالبات پر مشتمل ریاستی وزیر کو میورنڈم
اقلیتوں سے متعلق کمیٹیوں کی نہیں ہورہی ہے تشکیل

رانچی: ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلی مولانا محمد قطب الدین رضوی کی قیادت میں ایک اعلی سطحی وفد حکومت جھارکھنڈ کے کابینہ وزیر قدآور لیڈر عالمگیر عالم سے مل کر ریاست کو کرو مضبوط ومستحکم مہم کے تحت 8 نکاتی میمورنڈم سپرد کیا۔ میمورنڈم میں ادارہ شرعیہ نے کہا ہےکہ کافی لمبے عرصے سے جھارکھنڈ میں اسٹیٹ سنی وقف بورڈ، ریاستی اقلیتی کمیشن، 15 نکاتی نفاذ کمیٹی کی تشکیل نو نہیں ہوئی ہے جبکہ ریاست کے وجود میں آئے 20 سال سے زیادہ کاعرصہ ہوگیا، لیکن آج تک اردو اکیڈمی اور مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی تشکیل نہیں ہوسکی ہے، اقلیتوں کی فلاح کے لئے ایم ایس ڈی پی اسکیم نافذ ہے، لیکن آج تک اس اسکیم سے اقلیتوں کو کوئی فائدہ نہیں پہونچایا گیا، جھارکھنڈ میں ہزاروں اردو ٹیچروں کی جگہیں خالی ہیں جس سے اردو طلبہ وطالبات کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے اور مدرسہ بورڈ کی تشکیل ابھی تک نہیں ہوئی۔


وفد نے وزیر عالمگیر عالم سے کہا کہ تقریباً جھارکھنڈ کے 90 فیصد اردو اسکولوں کو گزشتہ حکومت نے زبردستی انضمام کر دیا تھا، لہٰذا اس کو فوراً منسوخ کیاجانا چاہئے۔ ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ نے کہا کہ اب تک وقف بورڈ کی تشکیل نہیں ہوئی، جس سے اوقاف جائیدادکی تعمیر و ترقی رکی ہوئی ہے اور تقریباً  کل 6  سالوں سے وقف بورڈ سرکاری تعصب کا شکار ہے، اسی طرح جھارکھنڈ ریاستی اقلیتی کمیشن بھی ایک سال سے خالی ہے، جس کی وجہ سے اقلیتی طبقہ کے دکھ درد کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے۔


اقلیتی طبقہ کہیں اپنے مسائل کو رکھ نہیں پا رہے ہیں،جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ جیسے ہی کمیشن کی مدت ختم ہوئی بلا تاخیر تشکیل نو ہونی چاہئے تھی، مگر اب تک نطر انداز کیا گیا، یونہی 15 نکاتی نفاذ کمیٹی فعال نہ رہنے کی وجہ سے اقلیتی طبقہ کے لاکھوں غریب افراد اس کی سہولیات سے محروم ہیں، وفد نے کہا کہ بنگال، بہار، چھتیس گڑھ، دہلی وغیرہ میں ریاستی حکومت کی طرف سے ہرسال حج بجٹ تیار کیا جاتا ہے، لیکن جھارکھنڈ میں حج بجٹ صفر ہے۔ ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے نمائندہ وفد نے مطالبہ کیا کہ اقلیتی کمیشن، سنی وقف بورڈ، اردواکیڈمی، مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، اقلیتی مالیاتی کارپوریشن، 15 نکاتی نفاذ کمیٹی کی جلد تشکیل کی جائے اور ریاست کے سبھی اقلیتی علاقوں میں ایم ایس ڈی پی اسکیم کو مخلصانہ نافذ کرکے اس پسماندہ طبقہ کو سہولت دی جائے، ساتھ ہی کئے گئے سبھی اردواسکولوں کے انضمام (مرجر) کو منسوخ کیا جائے۔ ریاست میں خالی ہزاروں اردو ٹیچروں کی بحالی کی جائے۔


 ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے نمائندہ وفد کی باتوں کو اطمینان سے کابینہ وزیر عالمگیر عالم نے بغور سنا اور وفد کو یقین دہانی کرائی کہ یوپی اے کی حکومت ریاست کے سبھی طبقہ کی فلاح وبہبود کے لئے کام کررہی ہے اور ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کی جانب سے دیئے گئے میمورنڈم کے تمام نکات پر وزیر اعلی ہیمنت سورین سے بات کرکے مسائل جلد ہی حل کرلئے جائیں گے۔

ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے نمائندہ وفد کی باتوں کو اطمینان سے کابینہ وزیر عالمگیر عالم نے بغور سنا اور وفد کو یقین دہانی کرائی کہ یوپی اے کی حکومت ریاست کے سبھی طبقہ کی فلاح وبہبود کے لئے کام کررہی ہے اور ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کی جانب سے دیئے گئے میمورنڈم کے تمام نکات پر وزیر اعلی ہیمنت سورین سے بات کرکے مسائل جلد ہی حل کرلئے جائیں گے۔


ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے نمائندہ وفد کی باتوں کو اطمینان سے کابینہ وزیر عالمگیر عالم نے بغور سنا اور وفد کو یقین دہانی کرائی کہ یوپی اے کی حکومت ریاست کے سبھی طبقہ کی فلاح وبہبود کے لئے کام کررہی ہے اور ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کی جانب سے دیئے گئے میمورنڈم کے تمام نکات پر وزیر اعلی ہیمنت سورین سے بات کرکے مسائل جلد ہی حل کرلئے جائیں گے۔ مولانامحمد قطب الدین رضوی نے کہا کہ جھارکھنڈ کے سبھی طبقہ کے ساتھ ہی اقلیتی طبقہ کی بھی امیدیں موجودہ ہیمنت حکومت سے وابستہ ہیں اور وزیر اعلیٰ خود بھی تمام مسائل سے بخوبی واقف ہیں، تاہم دوچند اہم وضروری مسائل کے حل میں تاخیر سے عوام کے اعتماد میں کمی واقع ہوجائے گی، اس لئے اب مزید تاخیر نہ ہو اور ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ موجودہ حکومت سے یہ امید رکھتا ہے کہ جلد ہی ہمارے عوامی فلاح کے مطالبات پورے کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ ریاست کو کرو مضبوط و مستحکم مہم چلارہا ہے۔ ناظم اعلی قطب الدین رضوی نے کہا کہ حکومت کی خصوصی توجہ پسماندہ اقلیتی طبقہ کی فلاح وبہبود کی جانب مرکوز رہنی چاہئے چونکہ یہ طبقہ معاشی، سماجی، تعلیمی، سیاسی اور معاشرتی طور پر نہایت پسماندہ ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 09, 2021 01:38 AM IST