ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مرکزی حکومت کے بجٹ سے اقلیتیں مایوس، وزارت اقلیتی امور کے بجٹ میں تخفیف سے مودی حکومت پر تنقید

اقلیتی طبقے کو امید تھی کہ حکومت ان کی تعلیم، روزگار اور زبان کو لے کر بجٹ میں خصوصی پیکج کا اعلان کرے گی، مگر ان کے خواب اس وقت چکنا چور ہوگئے جب بجٹ میں اضافہ کے بجائے اس میں تخفیف کردی گئی۔

  • Share this:
مرکزی حکومت کے بجٹ سے اقلیتیں مایوس، وزارت اقلیتی امور کے بجٹ میں تخفیف سے مودی حکومت پر تنقید
مرکزی حکومت کے بجٹ سے اقلیتیں مایوس، وزارت اقلیتی امور کے بجٹ میں تخفیف سے مودی حکومت پر تنقید

بھوپال: کورونا قہر میں مرکزی حکومت کے ذریعہ پیش کئے گئے بجٹ سے دوسرے طبقات کے ساتھ اقلیتی طبقے کو بھی خاص امیدیں وابستہ تھیں۔ اقلیتی طبقے کو امید تھی کہ حکومت ان کی تعلیم، روزگار اور زبان کو لے کر بجٹ میں خصوصی پیکج کا اعلان کرے گی، مگر ان کے خواب اس وقت چکنا چور ہوگئے جب بجٹ میں اضافہ کے بجائے اس میں تخفیف کردی گئی۔ مرکزی وزارت اقلیتی امور کے بجٹ پر 2014 سے لے کر اب تک کے بجٹ پر نظر ڈالیں تو دیکھنے کو ملتا ہے کہ 15-2014 میں مرکزی وزارت اقلیتی فلاح و بہبود کا کل بجٹ تین ہزار سات سو چونتیس کروڑ روپئے تھا۔ 16-2015 کے بجٹ میں حکومت نے بجٹ میں کل چار کروڑ کا اضافہ کیا۔


اضافہ کے بعد اقلیتی امور کے بجٹ کی رقم بڑھ کر تین ہزار سات سو اڑتیس کروڑ روپئے ہوگئی۔ 17-2016 کے بجٹ میں حکومت نے 89 کروڑ روپئے کا اضافہ کیا اور اس طرح اقلیتی امور کے بجٹ کی رقم تین ہزار آٹھ سو ستائیس کروڑ روپیہ ہوگئی۔ 18-2017 کے بجٹ میں حکومت نے اقلیتوں پر کچھ مہربانی کی اور بجٹ میں تین سو اڑسٹھ کروڑ روپیہ کا معمولی اضافہ کیا گیا اور بجٹ کو بڑھا کر چار ہزار ایک سو چھیانوے کروڑ روپیہ کر دیا گیا۔ 19-2018 چونکہ انتخابات کا سال تھا اور حکومت نے سبھی طبقات کے لئے اپنے خزانہ کا دروازہ کھولا تھا۔ اقلیتی امور کے بجٹ میں بھی پانچ سو کروڑ کا اضافہ کیا گیا اور وزارت اقلیتی امور کا بجٹ بڑھ کر چار ہزار سات سو کروڑ روپیہ ہوگیا۔ 20-2019 کے بجٹ میں بھی حکومت نے معمولی اضافہ کیا اور اقلیتی امور کا بجٹ بڑھ کر پانچ ہزار انتیس کروڑ روپئے ہوگیا تھا۔ اس طرح سے بی جے پی حکومت کے سات سالوں پر نظر ڈالیں تو اقلیتی امور کے بجٹ میں سات سالوں میں 1500 کروڑ کا اضافہ کیا گیا تھا۔ مسلم دانشورو ں اور سماجی کارکنان کو امید تھی کہ کورونا قہر میں بہت زیادہ تو نہیں مگر اتنا تو ضرور ملے گا کہ اقلیتی طبقہ اپنے آنسو پونچھ سکے، مگر اس کی حیرت کی انتہا اس وقت رہی جب حکومت نے بجٹ میں اضافہ کے بجائے اس میں تخفیف کااعلان کیا۔


بجٹ کو لے کر جمیعت علما کے ذمہ داران میٹنگ کرتے ہوئے۔
بجٹ کو لے کر جمیعت علما کے ذمہ داران میٹنگ کرتے ہوئے۔


مسلم ویلفیئر سو سائٹی کے اقبال مسعود کہتے ہیں کہ اسے ستم کے علاوہ اور کیا کہا جائے، اگر بجٹ میں اضافہ نہیں کرنا تھا تو کم از کم وہی رہنے دیتے۔ اقلیتی امور کا جو بہت ہی معمولی بجٹ ہے، اس میں اقلیتی اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ کف افسوس ملنے کے علاوہ ہمارے پاس کچھ کہنے کو نہیں ہے۔ منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کے چیرمین ڈاکٹر سید افتخارعلی کہتے ہیں کہ جب پورے بجٹ میں وزیر خزانہ نے لفظ اقلیت کا استعمال ہی نہیں کیا تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مسلم مسائل کو لے کر حکومت کتنا سنجیدہ ہیں۔ کورونا قہر میں ہم سمجھتے تھے کہ حکومت مسلم سماج کی تعلیم، روزگار اور اردو زبان کو لے کر خصوصی پیکیج کا اعلان کرے گی، مگر افسوس ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ آزاد ہندوستان کے 70 سالوں میں عوامی فلاح کا ایسا بجٹ پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔
مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ آزاد ہندوستان کے 70 سالوں میں عوامی فلاح کا ایسا بجٹ پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔


وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ بجٹ انتہائی افسوسناک ہے۔ کورونا قہر میں جب سماج ڈیجیٹل کی جانب گامزن ہے، ہمیں امید تھی کہ مرکزی حکومت ڈیجٹل پر فوکس کرتےہوئے خصوصی پیکج کا اعلان کرے گی۔ آن لائن تعلیم پر فوکس ہوگا، بجٹ پوری طرح سے مایوس کن ہے۔
وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ آزاد ہندوستان کے 70 سالوں میں عوامی فلاح کا ایسا بجٹ پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ بجٹ کے لئے میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ بجٹ میں صحت، تعلیم، زراعت، ریلوے، روزگار اور انفرااسٹرکچر پر خصوصی طورپر فوکس کیا گیا ہے، جو لوگ مخالفت کر رہے ہیں وہ بجٹ کی خوبیوں سے واقف نہیں ہیں بلکہ وہ ایک خاص چشمہ لگا کر بجٹ کو دیکھ رہے ہیں۔ جب تک وہ حقیقت کا چشمہ نہیں لگائیں گے انہیں سچ نہیں دکھائی دے گا۔
فوٹو نمبر دو اور تین  بجٹ کو لیکر گفتگو کرتے ہوئے مسلم دانشوروں کی تصویر
فوٹو نمبر چار مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کی تصویر
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 02, 2021 10:59 AM IST