ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار میں اردو اداروں کی خستہ حالی کو لے کر اقلیتی تنظیموں نے حکومت پر کھڑا کیا بڑا سوال

حکومت کے پاس اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے درجنوں اسکیمں موجود ہیں ، لیکن ان منصوبوں کا فائدہ اقلیتی سماج کو بہت زیادہ نہیں مل پارہا ہے ۔

  • Share this:
بہار میں اردو اداروں کی خستہ حالی کو لے کر اقلیتی تنظیموں نے حکومت پر کھڑا کیا بڑا سوال
بہار میں اردو اداروں کی خستہ حالی کو لے کر اقلیتی تنظیموں نے حکومت پر کھڑا کیا بڑا سوال

بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار سوشاسن کا دعویٰ کرتے رہے ہیں ، سب کے ساتھ انصاف کا نعرہ حکومت کی پالسی میں شامل ہے ، ایسے میں اردو کے ساتھ کیوں انصاف نہیں ہورہا ہے یہ اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے اور اسی معاملہ پر اقلیتی تنظیموں نے حکومت سے سوال پوچھا ہے ۔ خیال رہے کہ بہار میں قریب 74 ہزار سرکاری اسکول ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اعلان کیا تھا کہ ہر اسکول میں خواہ طلبہ کی جو تعداد ہو ، لیکن اردو کے ٹیچروں کی بحالی کو حکومت یقینی بنائے گی ۔ لیکن اس اعلان کی حقیقت یہ ہے کہ ریاست کے آدھے سے زیادہ اسکولوں میں اردو کے ٹیچر نہیں ہیں ۔ جبکہ اردو کے عہدہ پر بحالی کے انتظار میں اردو کے امیدوار اپنا دن کاٹ رہے ہیں ۔


اسی طرح بہار اردو اکیڈمی اور اردو مشاورتی کمیٹی کا کام بند پڑا ہے ۔ لگاتار اردو اکیڈمی تین سالوں سے تحلیل ہے ۔ اس تعلق سے محکمہ اقلیتی فلاح کے وزیر بات کرنے سے بھی بچتے رہے ہیں ۔ یعنی وزیر اقلیتی فلاح خورشید عرف فیروز احمد کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے کہ آخر اردو اکیڈمی کی تشکیل میں حکومت کو کیوں دقت ہورہی ہے ۔ اب بہار میں اسمبلی کا انتخاب ہونے والا ہے ۔ یہ سال انتخابی سال ہے اور سبھی پارٹیوں کی نظر مسلم ووٹوں پر ہے ۔ جے ڈی یو اپنے آپ کو اقلیتوں کا مسیحا بتاتی رہی ہے ۔ جے ڈی یو کے مسلم لیڈر نتیش کمار کے سلسلہ میں لگاتار اقلیتوں کو یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ حکومت مسلمانوں کے فلاح کے لئے کافی کام کررہی ہے۔


جانکاروں کے مطابق حکومت کے پاس اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے درجنوں اسکیمں موجود ہیں ، لیکن ان منصوبوں کا فائدہ اقلیتی سماج کو بہت زیادہ نہیں مل پارہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو یہ لگتا ہوگا کہ انہوں نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام تو کیا ہے ، پھر مسلم سماج انہیں تنقید کا نشانہ کیوں بنا رہا ہے ۔ اس کا جواب وزیر اعلیٰ کے مسلم لیڈر اور حکومت کے اعلیٰ افسران کے پاس موجود ہے ۔ اردو اکیڈمی کو تشکیل دینے کی کوشش گزشتہ دو سالوں سے کی جارہی ہے ، لیکن حکومت کے کام کی رفتار دیکھئے کہ اب تک حکومت کو کوئی لائق آدمی نہیں ملا ہے ، جسے اردو اکیڈمی کا سکریٹری بنایا جاسکے اور اکیڈمی کو تشکیل دے کر اردو کے فروغ کا راستہ ہموار کیا جائے ۔ اسی طرح اردو مشاورتی کمیٹی جو راج بھاشا محکمہ کے ماتحت ہے اور راج بھاشا کا محکمہ وزیر اعلیٰ کے پاس ہے ، اسے بھی تشکیل کرنے کی ضرورت حکومت نے محسوس نہیں کی ہے ۔


اب ریاست میں انتخابی سال شروع ہوگیا ہے ۔ تقریبا 8 ماہ بعد اسمبلی کا انتخاب ہونے والا ہے ، ایسے میں اردو آبادی حکومت سے سوال پوچھ رہی ہے کہ اقلیتوں کے ہر پروگرام میں وزیر اعلیٰ اردو نوازی کا دم بھرتے ہیں تو اردو کے ساتھ یہ ناانصافی کیوں ہے ۔ ظاہر ہے کہ بہار کی سیاست میں محبان اردو کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ محبان اردو کی بڑی آبادی کسی بھی پارٹی کے مقدر کا فیصلہ بدل سکتی ہے ۔ امارت شرعیہ بہار نے کہا ہے کہ حکومت کو اردو سے محبت ہے تو اس کا جواب بھی حکومت کو دینا چاہئے اور وہ جواب اردو اکیڈمی اور اردو مشاورتی کمیٹی کی تشکیل نو کے ساتھ ساتھ سرکاری اسکولوں میں اردو ٹیچروں کی بحالی سے جڑا ہے ۔ حکومت سنجیدہ ہے تو اردو کے ان تمام مسائل کا حل کرے ۔ تاکہ اردو آبادی کو حکومت کے وعدوں پر اعتبار ہوسکے ۔ اقلیتی تنظیموں کے مطابق حکومت کا یہ کیسا سوشاسن ہے ، جہاں دوسری سرکاری زبان کے فروغ دینے والے اداروں کے تشکیل کیلئے حکومت کے پاس وقت نہیں ہے ۔ دراصل انتخابی سال ہونے کے سبب اقلیتی تنظیموں نے اس ایشو کو حکومت کے سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ امارت شرعیہ کے مطابق حکومت اگر انصاف کے ساتھ ترقی کا دم بھرتی ہے ، تو اسے زمین پر بھی انصاف کرکے دکھانا چاہئے ۔
First published: Feb 18, 2020 08:26 PM IST