ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار اسمبلی انتخابات کو لےکر سیاسی پارٹیوں کی تیاری عروج پر، اقلیتی تنظیموں نے اٹھایا آبادی کے لحاظ سے ٹکٹ دینےکا مدّعا

جمعیۃ علماء بہار کے مطابق، اسمبلی انتخابات 2020 میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کونسی پارٹی اقلیتوں کے کتنے امیدوار کو ٹکٹ دیتی ہے، ساتھ ہی اقلیتوں کی فلاح کے لئے ان کے پاس کیا منصوبہ ہے۔

  • Share this:
بہار اسمبلی انتخابات کو  لےکر سیاسی پارٹیوں کی تیاری عروج پر، اقلیتی تنظیموں نے اٹھایا آبادی کے لحاظ سے ٹکٹ دینےکا مدّعا
بہار اسمبلی انتخابات 2020: اقلیتی تنظیموں نے اٹھایا آبادی کے اعتبار سے ٹکٹ دینے کا مدّعا

پٹنہ: بہار میں اقلیتوں کی 17 فیصدی آبادی ہے اور بہار اسمبلی کے دو سو (243ٌ) اسمبلی حلقوں میں 60 ایسے حلقے ہیں، جہاں اقلیتی آبادی ہی امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کرتی ہے، لیکن سیاسی پارٹیوں کی سیاست کے سبب اقلیتوں کی نمائندگی ان کی آبادی کے اعتبار سے نہیں ہو پاتی ہے۔ جمعیۃ علماء بہار کے مطابق اس بار کے انتخاب میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کونسی پارٹی اقلیتوں کے کتنے امیدوار کو ٹکٹ دیتی ہے، ساتھ ہی اقلیتوں کی فلاح کے لئے ان کے پاس کیا منصوبہ ہے۔


دراصل برسر اقتدار پارٹی کے مسلم لیڈروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کا مسلم سماج جے ڈی یو کو حمایت کرے گا۔ جے ڈی یو کے مسلم لیڈروں کے مطابق نتیش کمار نے اقلیتوں کے لئےکام کیا ہے اور اقلیتی آبادی کام کی بنیاد پر پارٹی کا انتخاب کریں گے۔ وہیں اپوزیشن اپنی روایتی ووٹ بینک کو مضبوط بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اپوزیشن نے موجودہ حکومت کو اقلیتوں کے معاملہ میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔


بہار میں اقلیتی طبقے کے ووٹ پر جے ڈی یو اور آرجے ڈی دونوں اپنا اپنا حق ہونے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔
بہار میں اقلیتی طبقے کے ووٹ پر جے ڈی یو اور آرجے ڈی دونوں اپنا اپنا حق ہونے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔


تیجسوی یادو نے نتیش کمار پر سی اے اے کی حمایت کرنے کی بات کہہ کر اقلیتوں کے درمیان اپنی تصویر کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ بہار میں اقلیتی تنظیموں کا مسلم ووٹ پر اثر ہوتا ہے، نتیجہ کے طور پر تمام سیاسی پارٹیاں اقلیتی تنظیموں کے رابطہ میں ہیں۔ دوسری طرف جانکاروں کا کہنا ہے کہ اس بار مسلم ووٹوں میں تقسیم یقینی ہے۔ اقلیتی آبادی میں مختلف پارٹیوں کو لےکر الگ الگ رجحان ہے۔ وہیں سیمانچل میں ایم آئی ایم اپنا جھنڈا گاڑنے کی تیاری میں مصروف ہے۔ دیکھنا دلچسپ ہوگا کی اقلیتی اکثریتی علاقوں میں مسلم سماج کس طرح کے سیاسی لائحہ عمل کو مرتب کرتا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 18, 2020 05:27 PM IST