உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Mirza Ghalib:جس مرزا غالب کا دل دھڑکتا تھا آگرہ کے لئے آج پوچھتے ہیں وہ کہ ’غالب کون ہے، کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا‘

    Youtube Video

    مرزا غالب (Mirza Ghalib) کا پورا نام اسداللہ خاں غالب تھا۔ وہ کلا (Art) محل جو بعد میں بگڑ کر کالا(Black) محل پڑ گیا۔ کلا محل آگرہ دھولیہ گنج میں واقع ہے۔ جہاں اُن کی ننہیال ہوا کرتی تھی۔ اُسی حویلی میں مرزا غالب پیدا ہوئے تھے جہاں اس وقت اندربھان گلرس انٹر کالج ہے۔

    • Share this:
      آگرہ: ہر زباں کا آسرا اُس کے دل میں دھڑکتا تھا آگرہ۔ وہ شاعر جس کو پوری دنیا جانتی ہے۔ جس کی شاعری کے لوگ آج بھی دیوانے ہیں۔ اُس عظیم شاعر مرزا غالب (Mirza Ghalib) کی پیدائش محبت کے شہر آگر میں ہوئی تھی۔ مرزا غالب کی پیدائش 27 دسمبر 1797 میں آگرہ (Agra) میں ہوئی۔ مرزا غالب کا بچپن تاج شہر کی گلیوں میں گزرا۔ جوانی کے دنوں میں وہ دلی (Delhi) چلے گئے۔ لیکن تاعمر مرزا غالب کے دل میں آگرہ ہی بستا رہا۔ مرزا غالب (Mirza Ghalib) کا پورا نام اسداللہ خاں غالب تھا۔ وہ کلا (Art) محل جو بعد میں بگڑ کر کالا(Black) محل پڑ گیا۔ کلا محل آگرہ دھولیہ گنج میں واقع ہے۔ جہاں اُن کی ننہیال ہوا کرتی تھی۔ اُسی حویلی میں مرزا غالب پیدا ہوئے تھے جہاں اس وقت اندربھان گلرس انٹر کالج ہے۔

      11 سال کی عمر میں ہی غالب کرنے لگے تھے شاعری
      مرزا غالب کے والد کا نام عبداللہ بیگ تھا۔ آگرہ کے استادوں سے مرزا غالب نے تعلیم حاصل کی تھی اور محض 11 سال کی عمر میں ہی شعر اور شاعری کرنے لگے تھے۔ دلی آنے کے عبد بھی مرزا غالب کا دل آگرہ کے لئے دھڑکتا تھا جس کا ذکر مرزا غالب نے اپنے دوستوں کو لکھے خطوط میں کئی بار کیا ہے۔ لیکن اپنے شہر میں ہی مرزا غالب بیگانے بن گئے ہیں۔

      اپنے ہی شہر نے مرزا غالب کو بھلادیا
      جس مرزا غالب کے شعر اور شاعری کی پوری دنیا قدردان ہے۔ ہر شاعر کی زباں پر اُن کا کوئی نہ کوئی شعر یا نظم رہتی ہے۔ ایسے عظیم شاعر کو اپنے ہی شہر آگرہ سے پیار نہیں ملا، نہ ہی اُن کے نام سے شہر میں کوئی عمارت، پارک، سڑک یہاں تک کہ کوئی مقام بھی نہیں ہے، جسے دیکھ کر اُنہیں یاد کیا جائے۔ آگرہ کو آرٹ اور ادب کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہاں سے کئی بڑے شاعر اور ادیب نکلے لیکن اسی شہر آگرہ نے اُس مرزا غالب کو کہیں ناں کہیں بے گانہ کردیا ہے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: