دہلی پولیس، سی بی آئی ہار سکتی ہے لیکن نجیب کی ماں نہیں، تلاش جاری رہے گی: فاطمہ

نجیب کی نفیس کا کہنا ہے کہ بے شک ایس آئی ٹی، کرائم برانچ، دہلی پولیس اور سی بی آئی نجیب کو تلاش کرنے میں ناکام ہو سکتی ہیں، لیکن ایک بیٹے کی ماں نہیں۔

Sep 18, 2018 10:16 PM IST | Updated on: Sep 19, 2018 10:10 AM IST
دہلی پولیس، سی بی آئی ہار سکتی ہے لیکن نجیب کی ماں نہیں، تلاش جاری رہے گی: فاطمہ

بے شک ایس آئی ٹی، کرائم برانچ، دہلی پولیس اور سی بی آئی نجیب کو تلاش کرنے میں ناکام ہو سکتی ہیں، لیکن ایک بیٹے کی ماں نہیں۔ نجیب کے ملنے تک میں نجیب کی تلاش جاری رکھوں گی۔ یہ کہنا ہے نجیب کی والدہ فاطمہ نفیس کا۔ نیوز 18 سے بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ سی بی آئی اس معاملہ میں کلوزر رپورٹ لگانے جا رہی ہے۔

سی بی آئی ہر طریقہ سے نجیب کی تلاش کر چکی ہے۔ اسے نجیب کے بارے میں کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ ملک کے اتنے بڑے ادارے کو نجیب کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ کچھ ایسا ہی حال دہلی پولیس کا بھی ہے۔ اسے جب کوئی ثبوت اور صحیح سراغ ہاتھ نہیں لگا تو وہ ایک جھوٹا آٹو رکشہ والا پکڑ لائی۔

اس سے غلط بیان بازی کرائی گئی۔ نجیب کی تلاش کے لئے بنی ایس آئی ٹی اور کرائم برانچ بھی اس کی تلاش نہیں کر پائیں۔ چار چار جانچ ایجنسیاں جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے گمشدہ ہوئے نجیب کو تلاش نہیں کر پا رہی ہیں۔ چار ایجنسیاں مل کر ملزم لڑکوں کے موبائل کا پیٹرن لاک تک نہیں کھول پا رہی ہیں۔

ایک ماں کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے میں اسے نہیں سمجھ پا رہی ہوں۔ یہ چار ایجنسیاں ہار مان سکتی ہیں، لیکن میں ایک بیٹے کی ماں ہوں میں ہار نہیں مان سکتی۔ میں نجیب کے ملنے تک اس کی تلاش کروں گی۔ اگر سی بی آئی کلوزر رپورٹ لگاتی ہے تو ہم عدالت سے جوڈیشل انکوائری کی مانگ کریں گے۔

Loading...

Loading...