مشن پانی : مساجد کیسے بن سکتی ہیں پانی کی محافظ ۔ جاننے کے لیے پڑھیں یہ خبر

شاہی مسجد باغ عامہ حیدرآباد میں ہر نماز ہر روز تقریباً پندرہ سو مصلی پاچ وقت کی نمازیں ادا کرتے ہیں جبکہ جمعہ کی نماز میں تقریباً چار ہزار مصلی شریک ہوتے ہیں

Jul 13, 2019 06:52 PM IST | Updated on: Jul 13, 2019 06:59 PM IST
مشن پانی : مساجد کیسے بن سکتی ہیں پانی کی محافظ ۔ جاننے کے لیے پڑھیں یہ خبر

حیدرآباد کے مرکز باغ عامہ میں واقع شاہی مسجد۔(تصویر:رائل مسجد حیدرآباد،فیس بک)۔

ملک بھر میں پانی کی شدید قلت نے ہمیں پانی کی اہمیت اور اسے بچا نے کی طرف راغب کیا ہے۔اس سلسلہ عوام کے شعور کو بیدار کرنے میں ہمارے علماء اور ہماری مساجد ہماری رہبری کر سکتی ہیں۔ شہر حیدرآباد کی ایک مرکزی اہمیت کی حا مل شاہی مسجد باغ عامہ میں وضو کے پانی کی ہارویسٹنگ کے ذریعہ یہ پیغام دے رہی ہے کہ کس طرح ہم پانی کی حفاظت کرسکتے ہیں؟

مکہ مسجد کے بعد حیدرآباد کے مرکز باغ عامہ میں واقع شاہی مسجد کو شہر کی دوسری سب سے اہم مسجد سمجھا جاتا ہے ۔اس مسجد میں ہر دن پانچوں نمازوں میں سینکڑوں اور جمعہ کی نماز میں ہزاروں لوگ نماز ادا کرتے ہیں۔ مسجد انتظامیہ نے پانی کی اہمیت کے مد نظر یہ فیصلہ کیا تھا کہ مسجد میں وضو کے پانی کی ہاروسٹنگ کے انتظامات کیے جا ئیں اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود سے اجازت کے بعد مسجد کے پیچھے واٹر ہارویسٹنگ کے ماہرین سے مشورہ کرنےکے بعدد ایک گڑھے کی تعمیر کی گئی۔ جسمیں وضو کے بعد خارج پورے پانی کو جذب کرنے کی صلا حیت ہے

Loading...

شاہی مسجد باغ عامہ حیدرآباد میں ہر نماز ہر روز تقریباً پندرہ سو مصلی پاچ وقت کی نمازیں ادا کرتے ہیں جبکہ جمعہ کی نماز میں تقریباً چار ہزار مصلی شریک ہوتے ہیں اس طرح ہر روز وضو پر ساڑھے ساتھ ہزار لیٹر اور جمعہ کی نماز کیلئے بیس ہزار لیٹر پانی خرچ ہوتا ہے۔ اس طرح شاہی مسجد حیدرآباد میں ہر سال ساڑھے ساتھ لاکھ گیلن پانی کو ڈرینج کے پانی میں جانے سے بچاتے ہوئے اسے زیرے زمین کیا جا رہا ہے

دوسری مذہبی عبادت گاہوں کے مقابلہ میں مساجد میں پانی کا زیادہ استمعال ہوتا ہے کیونکہ نماز سے پہلے مصلیان کے لیے وضو کرنا ضروری ہوتا ہے شاہی مسجد باغ عامہ کی انتظامیہ نے پانی کی حفاظت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے وضو کے پانی کو دوبارہ زمین کے حوالہ کرتے ہوئے ساری دنیا کو ایک راہ دکھائی ہے

Loading...