کولکاتہ میں خراب نلوں کو ٹھیک کرکے بچایا اتنا پانی ، جو بجھا دے کیپ ٹاون جیسے شہر کی پیاس

پینے کے صاف پانی کی پریشانی آج ملک کے بڑے حصے میں ہے ۔ مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتہ بھی اس کی زد میں ہے ، لیکن یہاں پر نوجوانوں کے ایک گروپ نے اس سمت میں ایک انوکھی پہل کی ہے ۔

Sep 24, 2019 10:38 PM IST | Updated on: Sep 24, 2019 10:38 PM IST
کولکاتہ میں خراب نلوں کو ٹھیک کرکے بچایا اتنا پانی ، جو بجھا دے کیپ ٹاون جیسے شہر کی پیاس

کولکاتہ میں خراب نلوں کو ٹھیک کرکے بچایا اتنا پانی ، جو بجھا دے کیپ ٹاون جیسے شہر کی پیاس

پینے کے صاف پانی کی پریشانی آج ملک کے بڑے حصے میں ہے ۔ مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتہ بھی اس کی زد میں ہے ، لیکن یہاں پر نوجوانوں کے ایک گروپ نے اس سمت میں ایک انوکھی پہل کی ہے ۔ انہوں نے سڑک کے کنارے ایسے نلوں کو ٹھیک کرنے کی مہم شروع کی ہے ، جن سے تھوڑا تھوڑا کرکے بڑی مقدار میں پانی برباد ہوجاتا ہے ۔ ان کی یہ مہم شہر کے ضائع ہورہے 30 فیصدی پانی کو بچا رہی ہے ۔ اس مہم سے اتنا پانی بچایا جارہا ہے جتنے میں جنوبی افریقہ کا شہر کیپ ٹاون کی پانی کی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے ۔

اس مہم کی شروعات جنوبی کولکاتہ سے ہوئی ۔ وجے اگروال ایک دن اسی علاقہ میں اپنے بچہ کو اسکول چھوڑنے گئے تھے ۔ اس دوران انہوں نے کئی نلوں سے پانی کو بہتے ہوئے دیکھا ، جو ضائع ہورہا تھا ۔ انہوں نے اس کا اپنے دوست اجے متل سے تذکرہ کیا ۔ اس کے بعد انہوں نے عہد کیا کہ اب وہ اس پانی کو بچائیں گے اور وہ خراب نلوں کو ٹھیک کریں گے یا پھر نل کو بدل دیں گے ۔

Loading...

بعد ازاں انہوں نے ایک گروپ بنایا ، جس کا انہوں نے ایکٹو سیٹیزنس ٹوگیدر فار سسٹینبلیٹی ( اے سی ٹی ایس ) نام رکھا ۔ اب تک یہ گروپ تقریبا 350 سے زیادہ خراب نلوں اور کھلے ہوئے نلوں کو ٹھیک کرچکا ہے ۔ کولکاتہ کے جن علاقوں میں انہوں نے نلوں کو ٹھیک کیا ہے ، ان میں چھیٹلا ، نارتھ کولکاتہ ، بھوانی پور ، ہاجرا ، مومن پورہ اور اقبال پور شامل ہیں ۔

تقریبا ساڑھے تین ماہ کے کم عرصہ میں اس گروپ نے ہزاروں لیٹر پانی کو بہنے سے بچایا ہے ۔ ان کے اس کام کی کولکاتہ نگر نگم کے میئر فرہاد حکیم نے بھی تعریف کی ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرائی جائے گی ۔

اس گروپ سے وابستہ اجے متل کے مطابق ایشین ڈیولپمنٹ بینک ( اے ڈی بی ) کے مطابق گزشتہ سال کولکاتہ نگر نگم کے ذریعہ سپلائی کئے جانے والا 30 فیصدی پانی صرف لیکیج ، خراب نل ، اور دیگر خامیوں کی وجہ سے ضائع ہوگیا ۔ یہ ہمارے لئے باعث تشویش ہے ، اس لئے ہم نے اس مہم کی شروعات کی ۔ ہم نے اپنی ریسرچ میں بھی پایا ہے کہ اس وجہ سے اتنا پانی ضائع ہوجاتا ہے جو کہ افریقی شہر کیپ ٹاون کی ضرورت کو پورا کرسکتا ہے ۔

Loading...