مشن پانی: یہاں سونا نہیں پانی چراکر کے جاتے ہیں لوگ، ڈرموں میں لگائے جاتے ہیں تالے

گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب لوگ پانی چرانے لگیں گے۔

Jul 17, 2019 01:38 PM IST | Updated on: Jul 22, 2019 10:02 AM IST
مشن پانی: یہاں سونا نہیں پانی چراکر کے جاتے ہیں لوگ، ڈرموں میں لگائے جاتے ہیں تالے

گرمی کا موسم آتے ہی پانی کی قلت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ کئی ریاستوں میں پانی کی قلت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ لوگوں کو گھنٹوں لمبی قطاروں میں لگ کر یا پھر گھنٹوں پیدل چل کر پانی لانے کو مجبور ہونا پڑتا ہے۔  یہاں تک کہ کئی مقامات پر تو پانی کی چوری تک ہوتی ہے۔ آپ بھلے اس بات پر یقین نہ کریں لیکن یہ بالکل حقیقت ہے۔

راجستھان کے اجمیر کے ویشالی نگر میں لوگ سونے کی نہیں بلکہ پانی کو چوروں سے بچانے کی ہر ممکن کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ پانی چوری ہونے سے بچانے کیلئے لوگ پانی کے ڈرموں میں تالے تک لگاتے ہیں۔

گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں پانی کی کافی قلت ہے ایسے میں اگر ہمیں کہیں سے بھی پانی مل جاتا ہے تو ہم اسے کسی ڈرم میں رکھ لیتے ہیں۔ گاؤں کے آس۔پاس کے علاقوں میں درجہ حرارت زیادہ تر 45 ڈگری کے پار ہی رہتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی کے پاس پانی ہوتا ہے تو کچھ لوگ پانی کو چرانے کی تاک میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے پانی کے ڈرموں میں تالا لگا کر رکھتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح راجستھان کے پارس رامپورہ گاؤں کے لوگ بھی اپنے ڈرموں میں تالے لگاکر رکھتے ہیں۔

Mission Paani : यहां सोना नहीं पानी चुराकर ले जाते है लोग, ड्रमों में लगाए जाते हैं ताले

Loading...

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگ پانی کو سونے سے زیادہ قیمتی مانتے ہیں۔ گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب لوگ پانی چرانے لگیں گے۔

Loading...