ریکارڈ بارش ہونے کےباوجود یہاں کیوں بوند بوند پانی کے لئے ترستے ہیں لوگ؟

مشن پانی: دنیا میں سب سے زیادہ بارش کا ریکارڈ چیرا پونجی نہیں بلکہ اس سے18 کلومیٹر دورآباد قصبےکے نام ہوچکا ہے۔ جانیں کہ اس کےباوجود اس ضلع میں خطرناک پانی کے بحران کےحالات کیوں ہیں؟

Aug 23, 2019 05:43 PM IST | Updated on: Aug 23, 2019 06:00 PM IST
ریکارڈ بارش ہونے کےباوجود یہاں کیوں بوند بوند پانی کے لئے ترستے ہیں لوگ؟

چیراپونجی سےکچھ ہی دیرکےگاوں کے نام درج ہے سب سے زیادہ بارش کا ریکارڈ۔

برسوں سےکتابوں میں پڑھایا جاتا رہا ہےکہ میگھالیہ ریاست میں واقع چیرا پونجی وہ جگہ ہے، جہاں دنیا میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ پہلی بات یہ ہےکہ اب وہ جگہ تبدیل ہوچکی ہے، جہاں سب سےزیادہ بارش ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ چیراپونجی کا نام سوہرا ہوچکا ہے، حالانکہ یہ ابھی مقبول نہیں ہوا ہےاورکئی بورڈوں پراب بھی چیراپونجی ہی لکھا نظرآتا ہے۔ خاص بات یہ ہےکہ یہ نہیں بتایا جاتا ہےکہ اتنی بارش ہونےکے باوجود پانی کا ہوتا کیا ہے؟ گراونڈ واٹراورپینےکے پانی کا بحران یہاں کیوں ہے؟ اورسب سے زیادہ بارش کےلئے جوعلاقہ نامزد کیا گیا ہے، وہاں کیا حالات ہیں؟

سب سے پہلےتویہ جانیں کہ چیراپونجی اب وہ جگہ نہیں ہے، جوسب سے زیادہ بارش ہونے کے لئےمشہوررہی ہے۔ اب یہ ریکارڈ اس کے پاس کے ہی قصبے ماسرنم کےنام ہوچکا ہے۔ حالانکہ اس پرتنازعہ جاری ہے، لیکن عالمی ریکارڈ کی گنیزبک آف ورڈ ریکارڈ اور سرکاری دستاویزوں میں یہ درج ہوچکا ہے۔ تواب جانئےکہ یہاں پانی کےتحفظ کولےکرکیا حالات ہیں اورپانی کےبحران میں اضافہ کیسے ہورہا ہے؟

Loading...

چیرا پونجی یعنی گیلا ریگستان

میگھالیہ ریاست بنگلہ دیش سے متصل ہے اورپہاڑی صوبہ ہے۔ چیراپونجی عرف سہرا اور ماسنرم دونوں ہی قصبے پہاڑی علاقوں پرآباد ہیں۔ پانی برستا ہےتوجون سےستمبرتک یہاں کئی جھرنے پھوٹ پڑتے ہیں اورپہاڑوں سے پانی بہتے ہوئے بنگلہ دیش پہنچ جاتا ہے۔ سردیوں کے موسم تک سوہرا میں پانی کی قلت کے حالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ خاص طورسے پینےکے پانی کےلئےلوگوں کومیلوں کا سفرکرنا ہوتا ہے۔ پانی کےبحران کےسبب ہی اس علاقےکودنیا کا سب سےگیلا ریگستان کہا جانےلگا ہے۔

چیراپونجی عرف سوہرا اور ماسنرم میں جون سے ستمبرتک جھرنے پھوٹ پڑتے ہیں اور پہاڑوں سے پانی بہتے ہوئے بنگلہ دیش پہنچ جاتا ہے۔ چیراپونجی عرف سوہرا اور ماسنرم میں جون سے ستمبرتک جھرنے پھوٹ پڑتے ہیں اور پہاڑوں سے پانی بہتے ہوئے بنگلہ دیش پہنچ جاتا ہے۔

پانی کے بحران کے سنگین حالات

یہ ایک اتفاق ہی ہےکہ جہاں دنیا کی سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے، وہاں پانی کا بحران انتہائی تشویشناک ہوتا جارہا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ لوگ میلوں دورجاکرسرکاری پائپ لائن سے پانی لیتےہیں، جوتقریباً 25 سے30 سال پرانی ہے۔ اس پائپ لائن سےملنے والا پانی صاف بھی نہیں ہےکیونکہ اس پائپ لائن میں کوئلےکی کانکنی سےگزرنے والا پانی بھی مل جاتا ہے۔  مشرقی کھاسی ضلع میں سوہرا اورماسنرم قصبے واقع ہیں اوریہاں کوئی رزواریرنہیں ہے، جس سے پانی کا تحفظ کیا جاسکے۔

Mission-pani-1

زیر زمین پانی کی صورتحال

ہندوستان حکومت کی آبی وسائل کی وزارت کے ذریعہ مشرقی کھاسی ضلع کےلئے جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ضلع میں زیرزمین پانی کی حفاظت کےلئےکنوئیں بنانےکا ہی متبادل آزمایا جارہا تھا۔ 2013 میں پایا گیا تھا کہ ضلع میں 60 سےتقریباً 250 میٹرتک کی کھدائی پرکنوؤں میں پانی کا سوتا ملتا تھا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ زیرزمین پانی کی حفاظت کےلئےضلع تقریباً پوری طرح بارش کی پانی پرہی منحصررہا۔ وہیں ڈاون ٹوارتھ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ یہاں کوئی رزواریرتودوربلکہ درختوں کا کوئی جال تک نہیں ہے، جس سےزیرزمین پانی کی سطح میں سدھارہوسکے۔

آٹھ سال میں بھی پوری نہیں ہوئی اسکیم

سوہرا کےلئےمحکمہ آبی تحفظ کی مدد سے پی ایچ ای نے 2010 میں گریٹرسوہرا واٹر سپلائی اسکیم لانچ کی تھی، جس کےذریعہ لوگوں کوپینےکا پانی آسانی سےمہیا کرانےکا کام کیا جانا تھا، لیکن ٹی اوآئی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ آٹھ سال بعد بھی یہ اسکیم ایک خواب بن کررہ گئی۔ گاوں کےمکھیا (پردھان) کے حوالے سےاس رپورٹ میں کہا گیا تھا 'اگر ہمیں پانی نہیں ملتا توہمیں فی ہزارلیٹرپانی 300 روپئےمیں خریدنا ہوگا اورجولوگ قیمت نہیں دے پائیں گے، انہیں مجبوراً جھرنوں یا دھاراوں سے ہی پانی لینا ہوگا'۔

Loading...