موب لنچنگ میں مارے گئے رکبر کے بچوں نے کھیل کود میں جیتے ضلعی سطح کے تمغے، اب اسٹیٹ کی تیاری!۔

راشد کا کہنا ہے کہ حال ہی میں رکبر اور عمر کے بچوں نے ضلعی ٹورنامنٹ میں کئی تمغے حاصل کئے ہیں۔ انہیں باکسنگ، کراٹے، کک اور کیرم وغیرہ کھیلوں کی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔

Oct 05, 2019 01:10 PM IST | Updated on: Oct 05, 2019 01:19 PM IST
موب لنچنگ میں مارے گئے رکبر کے بچوں نے کھیل کود میں جیتے ضلعی سطح کے تمغے، اب اسٹیٹ کی تیاری!۔

موب لنچنگ میں مارے گئے رکبر کے بچوں نے کھیل کود میں جیتے ضلعی سطح کے تمغے: فائل فوٹو

علی گڑھ ۔ رکبر اور عمر کا نام یاد ہو گا آپ کو؟ یہ وہی ہیں جو موب لنچنگ کے شکار ہو کر اپنی جان گنوا بیٹھے تھے۔ والد کی موت کے غم اور اس سے پیدا نفرت کو بھلا کر ان دونوں کے بچے کامیابی کی نئی کہانی لکھ رہے ہیں۔ حال ہی میں ایسے تین کنبوں کے چھ بچوں نے کھیل کود میں ضلع سطح کے تمغے حاصل کئے ہیں۔ یہ ہونہار اب ریاستی سطح پر تمغے جیتنے کے لئے جی توڑ محنت کر رہے ہیں۔ ان کی اس کوشش میں ان کا ہاتھ تھامنے والے ہیں علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے سابق طالب علم اور چاچا نہرو مدرسہ کی مینجمنٹ۔ علی گڑھ میں رہ کر یہ بچے نیشنل سطح کی تیاری کر رہے ہیں اور اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

چاچا نہرو مدرسہ میں پڑھ رہے ہیں متاثرہ کنبوں کے بچے

Loading...

ملک کے سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کی اہلیہ سلمیٰ انصاری علی گڑھ میں چاچا نہرو کے نام سے ایک مدرسہ چلا رہی ہیں۔ اس مدرسہ میں موب لنچنگ کے شکار ہوئے کنبوں کے بچے پڑھ رہے ہیں۔ پرنسپل محمد راشد نے بتایا کہ مدرسہ میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہندی اور انگریزی بھی پڑھائی جاتی ہے۔ یہاں رکبر عرف اکبر کے تین اور ہریانہ میں مارے گئے عمر کے بیٹے سرفراز سمیت چھ بچے ہیں۔

راشد کا کہنا ہے کہ حال ہی میں رکبر اور عمر کے بچوں نے ضلعی ٹورنامنٹ میں کئی تمغے حاصل کئے ہیں۔ انہیں باکسنگ، کراٹے، کک اور کیرم وغیرہ کھیلوں کی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جن چھ بچوں نے حال ہی میں ضلع سطح کے ٹورنامنٹ میں حصہ لے کر میڈل حاصل کئے ہیں انہیں اب ریاستی سطح پر میڈل لانے کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ وہیں، مدرسہ کے دوسرے بچے ریاستی سطح کی باکسنگ جیتنے کے بعد اب قومی سطح کی تیاری کر رہے ہیں۔ جھانسی میں انہوں نے ریاستی سطح پر میڈل جیتے تھے۔

کون ہے متاثرہ بچوں کی انگلی تھامنے والا اے ایم یو طالب علم

اے ایم یو سے تعلیم حاصل کرنے والے عامر منٹو نے علی گڑھ کو اپنا ٹھکانہ بنایا ہوا ہے۔ وہ کافی وقت سے موب لنچنگ کا شکار بنے کنبوں کو تلاش کرتے ہیں اور ان کے بچوں کو تعلیم دلانے میں مدد کرتے ہیں۔ اسٹیپ فاؤنڈیشن کے تحت انہوں نے لنچنگ زدہ کنبوں کی ایک فہرست تیار کی ہے۔ اب ایک ایک کنبہ کا موبائل نمبر تلاش کر کے وہ ان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ جیسے ہی متاثرہ کنبہ کا کوئی بچہ مل جاتا ہے وہ اسے مدرسہ میں داخلہ دلا دیتے ہیں۔ ایسے بچوں کی کوچنگ بھی کرائی جاتی ہے۔

Loading...